تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 421

مو سیٰ علیہ السلام کی و فات کے بعد ۱۲۶۶ قبل مسیح میں ہوا۔گو یا ان دونوں میں دو سو سال کا فا صلہ ہے۔اور انسائیکلوپیڈیا ببلیکا میں لکھا ہے کہ اس وقت جب بنی اسرائیل مصر سے آئے کنعان میں وہ ایک قوم نہیں بنے بلکہ الگ الگ قبیلوں نے جُداجُدا زمینوں میں اپنی ریا ستیں قائم کر لی تھیں۔اس وقت ان میں کوئی با دشاہت نہیں تھی بلکہ دو سو سال تک ان میں کوئی بادشاہت قا ئم نہیں ہوئی۔نہ ان میں فو جیںتھیں اور نہ ان کا کوئی با دشاہ تھا۔پھر بائیبل میں ۱۲۵۶ قبل مسیح کے متعلق لکھا ہے۔’’ بنی اسرائیل نے خدا وند کے آ گے بدی کی تب خدا وند نے انہیں سات برس تک مد یا نیوں کے قبضہ میں کر دیا۔اور مد یا نیوں کا ہاتھ بنی اسرائیل پر قوی ہوا اور مد یا نیوں کے سبب بنی اسرائیل نے اپنے لئے پہاڑوں میں کھوہ اور غار میں مضبوط مکا ن بنا ئے۔‘‘( قاضیوں باب ۶ آیت ۱،۲) یہ وا قعہ بعینہٖ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَ اَبْنَآىِٕنَا سے ملتا جلتا ہے۔آگے لکھا ہے۔’’ جب بنی اسرائیل کچھ بوتے تھے تو مد یا نی اور عما لیقی اور اہل مشرق ان پر چڑھ آ تے تھے اور ان کے مقا بل ڈیرے لگا کر غزہ تک کھیتوں کی پیدا وار کو بر باد کر ڈالتے۔اور بنی اسرائیل کے لئے نہ تو کچھ معاش نہ بھیڑ بکری نہ گا ئے بیل نہ گدھا چھوڑتے۔‘‘ (قا ضیوں باب ۶ آیت ۴) اس کے بعد لکھا ہے۔’’ بنو اسرائیل مدیانیوں کے سبب نہایت مسکین ہوئے۔اور بنی اسرائیل خدا وند کے آ گے چلا ئے۔‘‘ (قاضیوں باب ۶ آیت ۶) ’’ اور جب بنی اسرائیل مدیانیوں کے سبب سے خدا وند سے فر یاد کر نے لگے تو خداوند نے بنی اسرائیل پاس ایک نبی بھیجا جس نے انہیں کہا کہ خدا وند اسرائیل کا خدا یوں فر ماتا ہے کہ میں تم کو مصر سے چھڑا لایا۔اور میں تمہیں غلاموں کے گھر سے نکال لایا اورمیں نے مصریوں کے ہاتھ سے اور ان سب کے ہاتھ سے جو تمہیں ستاتے تھے۔چھڑایا اور تمہارے سا منے سے انہیں دفع کیا اور ان کا ملک تم کو دیا اور میں نے تم کو کہا کہ خدا وند تمہارا خدا میں ہوں سو تم ان اموریوں کے معبودوں سے کہ جن کے ملک میں بستے ہو مت ڈرو۔پر تم میری آ واز کے شنوا نہ ہوئے۔‘‘( قا ضیوں باب۶ آیت ۷ تا ۱۰) اس حوالہ میں ایک نبی کا ذکر تو ہوا ہے مگر یہ ذکر نہیں کہ اس نبی نے کوئی بادشاہ مقرر کیا ہو۔صرف اتنا ذکر ہے کہ ’’پھر خدا وند کا فرشتہ آیا۔۔۔۔۔اور اس وقت جدعون مےکے کو لھو کےپاس گہوں جھا ڑ رہا تھا۔