تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 38

کرو۔تو کیا قرآن یہ کہتا کہ سچ نہ بولا کرو جھوٹ بولا کرو؟ پس اس میں لازماً کچھ ایسی تعلیمیں ہیں جو پہلی تعلیموں سے ملتی ہیں۔اور انہی کا نام متشابہات رکھا گیا ہے لیکن کچھ تعلیمیں ایسی بھی ہیں جن میں اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں ایک یگانہ اور منفرد حیثیت رکھتا ہے اور وہی محکمات ہیں۔اگر وہ تعلیمیں بھی جو موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ لائے محکم ہوتیں تو پھر قرآن کریم کے نزول کی کوئی ضرورت نہ تھی۔پس يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ میں قرآن کریم کی اسی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ صرف وہی تعلیم نہیں دیتا جو پہلے صحیفوں میںپائی جاتی ہےبلکہ ایسی تعلیم بھی دیتا ہے جو اُن سے زائد ہے اور جو تمہیں پہلے معلوم نہیں تھی۔فَاذْكُرُوْنِيْۤ۠ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِؒ۰۰۱۵۳ پس( جب میں اس قدر فضل کرنےوالا ہوں تو) تم مجھے یاد رکھو۔میں (بھی )تمہیں یاد کرتا رہوںگا۔اور میرے شکرگزار بنو اور میری ناشکری نہ کرو۔تفسیر۔ذکر کے معنے یاد کرنے کے ہوتے ہیں لیکن ہر یاد ایک ہی قسم کی نہیں ہوتی بلکہ الگ الگ رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔جس کے اندر طاقت نہیں ہوتی اس کی یاد صرف تمنا اور خواہش اور التجا ء کا حکم رکھتی ہے۔جیسے ایک شخص کا رشتہ دار دور گیا ہوا ہو۔اور وہ اُس کو یاد کرے تو چونکہ اُس میں طاقت نہیں ہوتی کہ اُس کو بلا سکے۔خواہ بسبب احتیاج کے خواہ بسبب مصالح کے اس لئے یہ یاد صرف التجاء اور خواہش ہی ہو گی یا ایک بچہ جو پنگھوڑے میں پڑا ہوا اپنی ماںکو یاد کرتا اور روتا ہے تو اس کی یاد بھی صرف اس تمنا اور خواہش تک ہی محدود ہوتی ہے کہ اُس کی ماں اُس کے پاس آئے۔اور اسے اپنی گود میں اُٹھالے لیکن ایک یاد ایسے شخص کی ہوتی ہےجس میں کچھ طاقت تو ہوتی ہے لیکن پوری طاقت نہیں ہوتی۔ایسا شخص اپنے مقصد کے حصول کے لئے کچھ کوشش بھی کرتا ہے۔جیسے بچہ جب بڑا ہو جاتا ہے اور چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اُس وقت اپنی ماں کو یاد کرتا ہے تو وہ اپنی ماں سے ملنے کی صرف خواہش ہی نہیں کرتا بلکہ عملی طور پر اس کے لئے کوشش بھی کرتا ہے۔پھر ایک یاد وہ ہے جو بادشاہ کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی رعایا کے کسی فرد کو یاد کرتا ہے۔ایسی صورت میں اُس کی یاد التجاء نہیں ہوتی بلکہ ایک زبردست طاقت ہوتی ہےجس کے ذریعہ وہ دوسرے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اُس کی یاد عملاً پوری ہو جاتی ہے۔غرض جب ایک ادنیٰ آدمی بڑے کو یاد کرے تو اُس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ بڑا اسے اپنے پاس بلالے۔اور یہ التجاء ہوتی ہے۔لیکن