تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 412

ہوں۔جو بات دل میں بیٹھ گئی سو بیٹھ گئی۔نیز تا ج العروس میں لکھا ہے۔اَلتَّا بُوْتُ اَلْاَ ضْلَاعُ وَ مَا تَحْوِیْہِ کَالْقَلْبِ وَالْکَبِدِ وَغَیْرِ ھِمَا تَشْبِیْھًا بِا لصَّنْدُوْقِ الَّذِیْ یُحْرَزُ فِیْہِ الْمَتَا عُ۔یعنی تا بوت کے معنے پسلیوں والے حصہ جسم کے ہیں جس میں دل اور جگر وغیرہ اعضاء ہیں۔اور اس حصہ جسم کو تا بوت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ بھی صندوق کی طرح ہو تا ہے جس میں سا مان محفوظ رکھا جاتا ہے۔اور کسی علمی یا ایما نی یا راز کی بات کو تا بوت میں رکھنے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ گو یا وہ سینہ میں لکھی گئی ہے۔اور ایسی محفوظ ہو گئی ہے جیسے کوئی چیز صندوق میں رکھ دی جائے۔وَ فِیْ اَحْکَامِ الْاَسَاسِ اَلتَّا بُوْتُ: اَلْقَلْبُ اور کتاب احکام الاساس میں بھی تا بوت کے معنے دل کے لکھے ہیں اسی طرح مفردات میں لکھا ہے۔قِیْلَ عِبَارَۃٌ عَنِ الْقَلْبِ وَالسَّکِیْنَۃِ وَعَمَّا فِیْہِ مِنَ الْعِلْمِ۔یعنی کبھی لفظ تا بوت کو استعارۃً دل کے معنیٰ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے الفاظ قر آ نیہ صاف دلا لت کر رہے ہیں کہ اس جگہ تا بوت سے مراد دل ہے۔کیو نکہ فر ماتا ہے اس تا بوت میں تمہارے رب کی طرف سے سکینت ہے۔اب یہ ظا ہر ہے کہ سکینت دل میں ہوتی ہے نہ کہ صندوقوں میں۔اسی طرح اس تابوت کے متعلق فرماتا ہےتَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ۔فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔اگر تابوت سے ظاہری صندوق مرا دلیا جا ئے تو یہ قرآنی تعلیم کے خلاف ہو گا کیو نکہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا۔قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا۔( بنی اسرا ئیل: ۹۵۔۹۶) یعنی مخالفین کو ہدا یت الٰہی پر ایما ن لا نے سے صرف یہ بات روکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بشر رسول کیو ں بھیجا ہے؟ تو کہہ کہ اگر زمین میں فرشتے امن سے چلتے پھرتے تو ہم فر شتوں کو رسول بنا کر بھیجا کر تے۔اس آ یت سے ظاہر ہے کہ ملا ئکہ اس طرح لو گوں میں چلتے پھر تے نہیں ہیں جس طرح انسا ن چلتے پھر تے ہیں۔پس چو نکہ ظاہری تا بوت کی صورت میں ما ننا پڑتا ہے کہ فر شتے اُسے اُ ٹھا کر ساتھ سا تھ لئے پھر تے تھے اور یہ قر آ نی تعلیم کے خلا ف ہے۔اس لئے تابوت سے مراد اس جگہ د ل ہی ہیں۔جنہیں فرشتے اٹھا تے تھے اور ہمت بڑھا تے تھے کیو نکہ حَمَلَہٗ عَلٰی کَذَا کے معنے اَغْرَاہُ کے ہیں یعنی اکسا نا اور جوش دلا نا(اقرب) پس معنے یہ ہو ئے کہ اَتَباع طا لو ت کو فر شتے قر بانیوں پر آما دہ کریں گے اور ان کی نصرت ہر شخص کے سا تھ ہو گی۔چنا نچہ مورخین کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ طا لوت کا لشکر بہت ہی کم تھا اور ایسے قلیل التعداد لشکر کا کثیر افواج پر غا لب آ نا سوا ئے خاص نصرت الٰہی اور ملا ئکہ کی تا ئید کے نا ممکن تھا۔(التفسیر الطبری زیر آیت ھٰذا) ضمنی طور پر اس آ یت سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ ملا ئکہ سے فیوض حا صل کرنے کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ