تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 409

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اٰيَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ اور ان کے نبی نے ان سے کہا۔کہ اس کی حکومت کی دلیل یہ( بھی) ہے کہ تمہیں التَّابُوْتُ فِيْهِ سَكِيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ (ایک) تابوت ملے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین (ہوگی )اور اس چیز کا بقیہ ہوگا جو موسیٰ کے متعلقین مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اور ہارون کے متعلقین نے (اپنے پیچھے) چھوڑا۔فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہو ں گے۔اگر تم مومن ہو تو اس لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْمُّؤْمِنِيْنَؒ۰۰۲۴۹ (بات) میں تمہارے لئے یقیناً ایک (بڑا) نشان ہے۔حل لغات۔بَقِیَّۃٌ یہ لفظ ایسی چیز پر بولا جاتا ہے جو اعلیٰ درجہ کی ہو۔چنا نچہ جب کہیں فُلاَنٌ بَقِیَّۃُ قَوْمِہٖ تو اس کے معنے ہو تے ہیں ھُوَ مِنْ خِیَارِھِمْ۔وہ قوم کے شرفاء اور اچھے لو گوں میں سے ہے۔(اقرب) قرآن کریم میں بھی یہ لفظ اِن معنوں میں استعمال ہوا ہے چنا نچہ فر ماتا ہے۔وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌمَّرَدًّا (مریم: ۷۷) یعنی اچھے اور نیک اعمال خدا تعالیٰ کے حضور ثواب حا صل کر نے کے لحاظ سے بھی اور انجا م کے لحا ظ سے بھی سب سے بہتر شے ہیں۔قر آن کریم میں یہ لفظ عقل پر بھی بو لا گیا ہے جیسے آ تا ہے۔فَلَوْ لَا کَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ اُو لُوْ ا بَقِیَّۃٍ یَّنْھَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ( ھود: ۱۱۷) یعنی کیوں ان قوموں میں سے جوتم سے پہلے زما نہ میں تھیں ایسے عقل مند لوگ نہ نکلے جو لو گوں کو ملک میں بگاڑ پیدا کر نے سے روکتے۔چو نکہ عقل بھی خیر ہی کے معنے رکھتی ہے اور انسان کے لئے مفید ہو تی ہے اور وہ اس کے ذریعہ سے با قی رہتا ہے۔اس لئے اُسے بھی بقیہ کہتے ہیں۔تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ۔تر کہ سے مراد عام طور پر ورثہ ہو تا ہے لیکن تر کہ سے مراد دوسروں کی اعلیٰ صفا ت کا حا مل ہو نا بھی ہو تا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میںآتا ہے۔یَرِ ثُنِیْ وَ یَرِ ثُ مِنْ اٰلِ یَعْقَوْ بَ ( مریم: ۷) یعنی اےخدا! مجھے اپنے پاس سے وارث دے جو میرا بھی وارث ہو اور سارے بنی اسرائیل کا بھی۔سارے