تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 37
محرکات ہیں جو لوگوں کو عمل کی ترغیب دلاتے ہیں۔پس یہ ترتیب چھوٹے بڑے درجہ کے لحاظ سے ہے۔لیکن دعائے ابراہیمی میں اس ترتیب کو مدِّ نظر رکھا گیا ہے جس سے انسان ترقی کرتا ہے۔چنانچہ پہلے اُسے دلائل دیئے جاتے ہیں۔پھر ان کے بعد فرائض بتائے جاتے ہیں۔اس کے بعد فرائض کی حکمتیں بیان کی جاتی ہیں۔اور پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ ان باتوں پر عمل کریں گے انہیں تزکیہ حاصل ہو جائے گا۔دعائے ابراہیمی اور اس آیت میں دوسرا فرق یہ ہے کہ وہاں دعا کے بعد کہا تھا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ اور اس جگہ ہے وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔اس کی یہ وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عزیز وحکیم صفات کے واسطہ سے دعا کی تھی۔کہ جو کچھ میں مانگ رہا ہوں اپنے خیالات کے مطابق مانگ رہا ہوں۔مگر مجھے معلوم نہیں کہ اُس وقت کی ضرورت کیا ہوگی ؟پس تو اپنی طاقت اور حکمت سے کام لے کر جس چیز کی اس وقت ضرورت ہو وہ دیجئیو۔لیکن یہاں خدا تعالیٰ نے وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فرماکراس دعا کی قبولیت کا ذکر کر دیاکہ ابراہیم ؑ نے عزیز اور حکیم دو صفات کے واسطہ سے جو دعا مانگی تھی وہ پوری ہو گئی۔اور نہ صرف یہ نبی وہ کام کر رہا ہے جو ابراہیم ؑ نے کہے بلکہ ایسے رنگ میں کر رہا ہے کہ پہلے کسی نبی نے نہیں کئے۔کیونکہ اس زمانہ کی ضرورت ایسی ہی اعلیٰ درجہ کی تعلیم چاہتی تھی۔پس دعائے ابراہیمی کامل طور پر پوری ہو گئی۔وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ رسول تم کو وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم پہلے نہ جانتے تھے۔یعنی اس کی تعلیم صرف اُنہی اچھی تعلیمات پرمشتمل نہیں جو پہلی کُتب میں پائی جاتی ہیں بلکہ اس سے زائد اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جو پہلے دنیا کو معلوم نہیں تھیں۔قرآن کریم نے دوسری جگہ اس امر کو محکمات اور متشابہات کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔چنانچہ سورہ آل عمران میں فرماتا ہے کہ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ (آل عمران: ۸)یعنی تجھ پر جو کتاب نازل کی گئی ہے اِس کی بعض آیتیں تو محکم ہیں جو اس کتاب کی جڑہیں اور کچھ اور ہیں جو متشابہ ہیں۔اس میں متشابہات سے مراد وہ باتیں بھی ہیں جو پہلی تعلیموں سے ملتی جلتی ہیں۔مثلاً روزہ رکھنا۔یہ حکم اپنی ذات میں متشابہہ ہے کیونکہ یہ تعلیم پہلے بھی پائی جاتی تھی۔اسی طرح قربانیوں کا حکم بھی متشابہہ ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ(الحج :۳۵)یعنی دنیا کی ہر قوم کے لئے ہم نے قربانی کا ایک طریق مقرر کیا تھا تاکہ وہ اُن جانوروں پر جو اللہ تعالیٰ نے اُن کو بخشے ہیں اللہ کا نام لیں اورانہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کریں۔غرض قرآن کریم کی کچھ تعلیمیں تو ایسی ہیں جو پچھلی تعلیموں سے ملتی ہیں اور لازماً ملنی چاہئیں۔مثلاً پہلے نبیوں نے کہا تھا کہ سچ بولا