تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 404

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ کیا تجھے بنی اسرائیل کے ان سر کردہ لوگوں کا حال نہیں معلوم ہوا۔جو موسیٰ کے بعدگزرے ہیں۔اِذْ قَالُوْا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لئے کوئی (شخص) بادشاہ (بنا کر )کھڑا کیجئیے تاکہ ہم (اس کے ماتحت ہو کر ) اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔اس نے کہا (کہیں )ایسا تو نہیں ہو گا کہ اگر تم پر جنگ فرض کی جائے تو تم جنگ نہ کرو۔تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ انہوں نے کہا( ایسا نہیں ہو گا )اور ہمیں کیاہو گیا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں گے حالانکہ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَ اَبْنَآىِٕنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ہمیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور اپنے بچوں سے( جدا کیا گیا ہے) مگر جب ان پر جنگ فرض کی گئی الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ۰۰۲۴۷ تو ان میں سے ایک قلیل (سی) جماعت کے سوا (باقی) سب پھر گئے۔اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔حل لغات۔مَلَأٌ اس کے اصل معنے بھر دینے کے ہیں۔کہتے ہیں۔مَلَأَ الْاِ نَاءَ بِا لْمَاءِ اُس نے بر تن کو پا نی سے بھر دیا۔مُلِئَی رُعْبًا اُس کا دل خوف سے بھر گیا۔اَلْمَلَأُ کے معنے ہیں۔سرداران قوم۔بڑے آ دمی۔کیونکہ جب مجلس میں بڑا آ دمی آجاتا ہے تو کہتے ہیں۔اب مجلس بھر گئی ہے۔اب کسی کی ضرورت نہیں رہی۔غرباء خواہ پچا س بیٹھے ہو ئے ہوں جب تک بڑا آ دمی نہ آ جائے تب تک یہی کہتے ہیں کہ ابھی رونق نہیں ہوئی۔اور اس وقت تک کام بھی شروع نہیںکر تے جب تک کہ وہ آ نہ جائے۔اس لئے مَلَأٌ بڑے لوگوں کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے وجود سے لوگوں کی مجلس کوبھر دیتے ہیں۔اسی طرح ان کے خوف یا محبت کی وجہ سے بھی لوگوں کے دل بھرے ہو ئے ہوتے ہیں۔(اقرب)