تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 401

کپڑا پہنایا۔ہم کب تجھے بیمار یا قید میں دیکھ کر تجھ پاس آئے۔تب بادشاہ ان سے جواب میں کہے گا۔میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تم نے میرے ان سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے ساتھ کیا تومیرے ساتھ کیا۔تب وہ بائیں طرف والوں سے بھی یہی کہے گا۔اے ملعونو! میرے سامنے سے اس ہمیشہ کی آگ میںجائو۔جو شیطان اور اس کے فرشتوں کے لئے تیار کی گئی۔کیونکہ میںبھوکا تھا پر تم نے کھانے کو نہ دیا۔پیاساتھا تم نے مجھے پانی نہ پلایا۔پردیسی تھا تم نے مجھے اپنے گھرمیں نہ اتارا۔ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا نہ پہنایا۔بیمار اور قید میں تھا تم نے میری خبر نہ لی۔تب وے بھی اسے جواب میں کہیں گے۔اے خدا وند کب ہم نے تجھے بھوکا یا پیاسا یا پردیسی یا ننگا یا بیمار یا قیدی دیکھا اور تیری خدمت نہ کی۔تب وہ انہیں جواب میں کہے گا۔میں تم سے سچ کہتا ہوں۔کہ جب تم نے میرے ان سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے ساتھ نہ کیا تو میرے ساتھ بھی نہ کیا۔" (متی باب ۲۵ آیت ۳۴تا۴۰) انجیل کے اس حوالہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بندوں کو دینا خدا تعالیٰ کو دینا کہلاتا ہے۔پس مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ سے مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ عِبَادَ اللّٰہِ مراد ہے۔گویا یہاں ایک مضاف محذوف ہے جو عِبَادَ اللہِ ہے اور چونکہ اس سے پہلے وَقَاتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔اس لئے اس کے معنے یہ ہیں کہ لڑائیوں کے ایام میں بعض کو مالی نقصان پہنچیں گے۔تم کو چاہیے کہ انہیں قرض دےکر ان کے حالات درست کرو۔یہ قرض گویا تم خدا تعالیٰ کو دو گے۔اور یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے ایک دانہ بھی خرچ کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اسے بڑھاتا ہے اور اتنا بڑھاتا ہے کہ کسی کو اس کی امید بھی نہیں ہوتی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھو۔انہوںنے اپنا ایک بیٹا خدا تعالیٰ کے لئے قربان کیا اور خدا تعالیٰ نے ان کو اس کے بدلہ میں اتنی اولاد دینے کا وعدہ دیا جس کا آسمان کے ستاروں کی طرح شمار ہی نہیں ہو سکتا(پیدائش باب ۱۳ آیت ۱۵ تا ۱۷)۔اسی طرح حضرت اسمعٰیل علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے لئے ایک بے آب و گیاہ جنگل میںرہنا منظور کیا۔جس کے بدلہ میں ان کو یہ مرتبہ ملا کہ اوّلین و آخرین کے سردارحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کی نسل میں سے پیدا ہوئے۔پس فرماتا ہے کہ تم یہ مت گمان کرو کہ تمہاری قربانیاں ضائع چلی جائیں گی۔خدا تعالیٰ نےاس کے بدلہ میں تمہارے لئے جو انعام مقرر کیا ہے وہ تمہارے وہم و گمان سے بھی بالا ہے۔فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً پر بعض لوگوں نے اعتراض کیاہے کہ اَضْعَا فًا کس طر ح آسکتا ہے۔یہا ں تو