تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 386
معروف کا لفظ قر آ ن کر یم میں بہت دفعہ آ یا ہے۔یہ عُرف سے نکلا ہے اورا س کے معنے ہیں پہچا نا ہوا۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے۔اَلْمَعْرُوْفُ اِسْمٌ لِکُلِّ فِعْلٍ یُعْرَفُ بِالْعَقْلِ وَا لشَّرْعِ حُسْنُہٗ یعنی معروف ہر اس فعل کو کہتے ہیں جس کی خوبی عقل و شرع سے پہچا نی جائے۔پس جب کو ئی فعل شرع کے لحا ظ سے معروف ہو تو وہ مطا بق قا نو ن فعل کہلائےگا۔اور جب عقل عامہ سے اس کی خو بی پہچا نی جا ئے تو اسے مطا بق دستور کہیں گے کیو نکہ جس امر کی خو بی ہر انسا ن پہچا نتا ہے اس کا رواج بنی نوع انسا ن میں پا یا جاتا ہے اور جب کسی امر کی خو بی کسی خا ص فر د کی عقل سے پہچا نی جائےگی تو اسے منا سب حا ل یا مطا بق حال کہیں گے کیو نکہ افراد کے سا تھ انہی نیکیوں کا تعلق ہوتا ہے جو خا ص ان کے حا لات سے متعلق ہوں۔پس معروف کے معنے قا نون یا قو می رواج کے مطا بق کے ہو تے ہیں لیکن اس جگہ اس کے معنے پسندیدہ اور بہتر کے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ خوا ہ عدّت کے بعد عورتیں نکا ح کر لیں خواہ اپنے وا لدین یا دوسرے رشتہ داروں کے ہا ں چلی جا ئیں یا کو ئی ملازمت اختیا ر کر لیں تم پر کو ئی اعتراض نہیں۔تمہیں اس حکم کی رو سے یہ نہیں چا ہیے کہ انہیں روکو۔وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ۰۰۲۴۲ اور جن عورتوں کو طلاق دی جائے انہیں بھی (اپنے) حالات کے مطابق کچھ سامان دینا ضروری ہے۔یہ بات( ہم نے) متقیوں كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَؒ۰۰۲۴۳ پر واجب کر دی ہے۔اسی طرح اللہ (تعالیٰ) اپنے احکام تمہارے (فائدہ کے) لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔تفسیر۔طلاق کے مضمو ن کوختم کر تے ہو ئے اللہ تعا لیٰ نے مطلّقات سے حسن سلوک کے حکم کو پھر دہرایا ہے۔چو نکہ عام طور پر مطلّقات سے نا را ضگی ہو تی ہے اس لئے فر مایا۔تمہیں ان سے اچھا سلو ک کر نا چا ہیے اور پچھلی آ یتوں پر اس کا عطف کر کے یہ بھی بتا دیاکہ مطلّقہ عورتوں کو بھی اگر عر صہ عدت سے زیا دہ گھر میں رہنے کی ضرورت ہو تو رہنے دیا جا ئے اور ان کو بھی ان کے منا سب حال فا ئدہ پہنچا نا چا ہیے۔یہ متقیوںپر حق قرا ر دیا گیا ہے۔پس مطلقہ عورت سے بھی بے مر وتی نہیںکر نی چا ہیے اور اس کو عدّت کے فوراً بعد گھر سے نہیں نکا ل دیناچا ہیے۔بلکہ بطریق احسا ن اسے مو قعہ دینا چا ہیے تا کہ وہ اطمینا ن سے نقل مکا نی کا انتظام کرسکے۔