تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 385

وصیت کر جا ئیں کہ بعد میں وہ لو گ جن کے ہا تھ میں وصیت کا اجراء ہے انہیں ایک سا ل تک فا ئدہ پہنچا ئیں۔اس کے بعد غَیْرَ اِخْرَاجٍ کے الفا ظ ہیں۔جو بدل ہیں مَتَا عًا کا پس معنٰی یہ ہو ئے کہ فا ئدہ پہنچا نے سے ہما ری مراد یہ ہے کہ ان کوگھروں سے نہ نکا لیں(املاء مامنّ بہ الرحمٰن)۔بلکہ با و جو د اس کے کہ مکا ن کسی اور وا رث کے حصّہ میں آ یا ہو بیو یو ں کو ایک سال تک اس میں رہنے کا حق حا صل ہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ عورت خو د بھی مکا ن سے نہیں جا سکتی۔عورت عدت کے بعد اپنی مر ضی سے اور اپنے فا ئد ہ کے لئے جا نا چا ہے تو جا سکتی ہے۔سال بھر کی شرط صرف عورت کے آرام اور فا ئدہ کے لئے لگا ئی گئی ہے اور اس سے وارثوں کو پا بند کیا گیا ہے۔عورت پر پا بندی صرف ایا م عدت تک گھر میں رہنے کی ہے بعد میں اس حکم سے فا ئدہ اٹھانا یا نہ اٹھا نا اس کے اختیار میں ہے۔یہ امر کہ اس ایک سال میں عدّت شا مل ہے یا نہیں۔اس بارہ میں اختلا ف پا یا جا تا ہے لیکن میر ے نزدیک جس با ت میں عورت کا فا ئدہ ہو اسے تسلیم کر نا چا ہیے اور وہ صورت یہی ہے کہ عدت کے بغیر ایک سال تک عورت کو گھر میں رہنے دیا جائے۔مگر افسوس ہے کہ اس حکم کی پا بندی نہ تو مر نے والے کے رشتہ دار کر تے ہیں اور نہ عورتیں۔اگر تو عورت کے بچے ہو ں تو پھر تورشتہ دار کچھ عر صہ تک صبر کر تے ہیں لیکن اگر بچے نہ ہوں تو چند ماہ کے بعد ہی مر نے والے کےرشتہ دار مکا ن اور جا ئداد کی تقسیم کے پیچھے پڑ جاتے ہیں حا لا نکہ اس مکا ن میں ایک سال تک عورت کو رہنے دینا ضروری ہو تا ہے۔اور اللہ تعا لیٰ نے اس کی سخت تا کید فر ما ئی ہے۔بعض نے کہا ہے کہ یہ آ یت احکا م میراث کے ذریعہ منسوخ ہو گئی ہے(رازی زیر آیت ھذا) مگر یہ بالکل غلط ہے بیوہ کا اپنے خا وند کی جائیداد میں جو حصّہ رکھا گیا ہے اس کے سا تھ اس کا کو ئی تعلق نہیں یہ ایک الگ حکم ہے جس میں جا ئیداد کے حصہ کے علا وہ عورت کےلئے سال بھر کے نان و نفقہ اور رہا ئش کا انتظام ضروری قرار دیا گیا ہے۔فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْ مَا فَعَلْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ میں بتا یا کہ ہما را یہ منشاء نہیں کہ تم ایک سال تک ان کو پکڑکر رکھو بلکہ مطلب یہ ہے کہ تمہا ری طرف سے ایک سال کے عرصہ تک انہیں کھلی اجا زت ہو نی چاہیے کہ وہ آ زادانہ طور پر اپنے گھر میں رہیں ہا ں اگر وہ سال کے اندر ہی مکا ن چھوڑ دیں تو تم انہیں جا نے دو۔عدّت میںتو خو د ان کا نکلنا بھی ممنو ع ہے لیکن اس کے بعد ان کا خود نکلنا گناہ نہیں۔پس اس آ یت کو آ یت عدت سے منسوخ سمجھنا بھی غلطی ہے۔یہ ان سے نیک سلوک کر نے کا ایک زائد حکم دیاگیا ہے۔کیو نکہ فوراً ان کا نیا گھر بنا نا یا نکاح کرنا مشکل ہو تا ہے چا ر ماہ دس دن تک تو وہ خود نہیں نکل سکتیں۔اس کے بعد ایک سال مزید تک ان کو نکا لا نہیں جا سکتا ہا ں وہ خود چا ہیں تو نکل سکتی ہیں کیو نکہ اللہ تعا ٰلیٰ نے ان کے فعل کو معروف کہا ہے۔