تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 384

حالت میں شہروں میں رہتے ہو ئے بھی پڑھی جا سکتی ہے۔مثلاً فر ض کرو ایک ملک کی دوسرے ملک سے لڑائی ہو جا تی ہے اُس وقت سر حدی شہر وں یا دیہات میں رہنے والے جو لو گ ہوںگے اُن کے لئے جا ئز ہو گا کہ اگر زور کا حملہ ہو تو وہ کھڑے کھڑے نما ز کی عبارتیں دہراتے جا ئیں اور سا تھ ہی دشمن پر گولیا ں بر ساتے جائیں۔فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ۔ہا ں جب خو ف کی حالت جا تی رہے اور تم امن میں آ جا ؤ تو پھر تمہیں اسی طر ح نما ز پڑھنی چا ہیے جس طرح قُوْمُوْالِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ میں حکم دیا گیا ہے یعنی خا مو شی اور بغیر ضروری حر کت کے۔كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ کے معنے ہیں جس طر ح اس نے تم کو سکھا یا ہے یا اس لئے یاد کر و کہ اس نے تمہیں وہ کچھ سکھا یا ہے جو تم پہلے نہ جا نتے تھے۔اِن الفا ظ میں قرآن کریم نے دنیا کے سا منے یہ دعوٰی پیش کیا ہےکہ اس کتا ب کے ذریعے لو گوں کو وہ روحانی علو م سکھا ئے گئے ہیں جو اس سے پہلے اور کسی مذ ہب کی الہا می کتا ب نے بیان نہیں کئے۔وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِيَّةً اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ اپنی بیویوں کے لِّاَزْوَاجِهِمْ۠ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ حق میں ایک سال تک فائدہ پہنچانےیعنی ان کو (گھروں سے) نہ نکالنے کی وصیت کر جائیں۔خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْ مَا فَعَلْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِنَّ لیکن اگر وہ (خود بخود) چلی جائیں تو وہ اپنے متعلق جو پسندیدہ بات کریں اس کا تمہیں کوئی گناہ نہیں۔مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۰۰۲۴۱ اور اللہ غالب (اور )حکمت والا ہے۔تفسیر۔وَ صِیَّۃٌ مصدر ہے اور اس سے پہلے یُوْ صُوْنَ محذوف سمجھا جائےگا۔یعنی وہ وصیت کر جا ئیں۔مَتَا عًا دوسرا مصدر ہے اس سے پہلے بھی اَنْ مَتِّعُوْ ھُنَّ محذوف ہے۔اور معنے یہ ہیں کہ اپنی بیو یو ں کے حق میں