تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 383
خطرہ کی حا لت میں بھی جو صلوٰ ۃ الخو ف کے خطرہ سے بھی بڑھ کر ہوجو عین جنگ میں ہو تی ہے تمہا رے لئے یہ جائز نہیں کہ تم نما ز چھوڑ دو بلکہ جس حالت میں بھی ہو نما ز ادا کرو۔چنا نچہ بخا ری میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ ان سے صلوٰۃ خو ف کے متعلق سوال کیا گیا۔تو انہوں نے اس کا طر یق بتایا اور پھر فر ما یا کہ اگر اس سے بھی زیادہ خو ف کی حا لت ہو تو پھر پیدل یا سوارجس حا لت میں بھی ہو تم نما ز پڑ ھ لو۔اور حضرت نا فع جو اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوںحضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے یہ با ت رسول کر یم صلی اللہ علیہ و سلم سے ہی سُنی ہے۔( بخا ری کتا ب التفسیر باب قولہ وَ اِنْ خِفْتُمْ) اس سے معلو م ہو تا ہے کہ خود رسول کر یم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اس آیت میں صلوٰ ۃ خو ف وا لی حالت سے بھی زیا دہ خطرہ والی حا لت مرا د لی ہے، صلوٰۃ خو ف میں تو با قا عدہ ایک امام کی اقتداء میں نما ز ادا کی جا تی ہے (النساء: ۱۰۳)مگر یہ حا لت ایسی ہے جس میں اتنی مہلت بھی نہ مل سکے اور دوڑتے اور بھا گتے ہو ئے نما ز پڑ ھنی پڑ ے۔مثلاً اسلا می فو ج کا ایک سپا ہی دشمن کے حالا ت معلو م کر نے کے لئے گیا تھا۔اس کا دشمن کو علم ہو گیا۔وہ گھو ڑے کو دوڑا تا ہوا واپس آ رہا ہے اور پچا س سا ٹھ سپا ہی اس کے تعاقب میں ہیں۔کہ راستہ میں نما ز کا وقت آ گیا۔اب اگر وہ ٹھہر جا تا ہے یا گھو ڑے سے اُتر کر نما ز پڑھنے لگ جا تا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ پکڑا جا ئےگا اور اسلا می لشکر ان معلو مات سے محروم رہ جائےگا جن کو مہیّا کر نے کے لئے اُسے بھجوا یا گیاتھا۔پس چو نکہ اس کا جا ن بچا کر اسلا می لشکر میں پہنچنا ضر وری ہے۔اس لئے اسے اجا زت ہو گی کہ وہ گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے نماز پڑھتا چلا جا ئے۔جس طرح بیمار آدمی لیٹے لیٹے نماز پڑھ لیتا ہے یا بعض دفعہ اشاروں میں ہی نماز پڑھ لیتا ہے اسی طرح اسے بھی اجازت ہوگی کہ جس طرح چاہے نما ز پڑ ھ لے۔مثلاً گھو ڑا دوڑاتےدوڑاتے نما ز کے کلما ت دہراتا جائے۔رکو ع کا وقت آ ئے تو ذرا سا سر جھکا لے اور ایک دو دفعہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہہ دے۔ذرا اور سر جھکا دے تو اسے سجدہ سمجھ لے۔اس طرح جلدی جلدی نما ز پڑھ کر فا رغ ہو جا ئے۔ایسی حالت میں با وجو د اس کے کہ اس کی ایک ٹا نگ گھو ڑے کے ایک طرف ہو گی اور دوسری ٹا نگ دوسری طرف پھر بھی اس کی نماز ہو جائےگی۔اور اگر اس کا منہ قبلہ کی طرف نہیں ہو گا تب بھی نما ز ہو جا ئے گی۔ہاں! اگر مو قعہ مل سکے تو نماز شروع کر تے ہو ئے قبلہ کی طرف مُنہ کر لیا جا ئے۔پھر خوا ہ کسی طرف مُنہ ہو جا ئے۔غرض خو ف کے وقت نما ز کو اپنی مقررہ شکل سے بدل کر پڑھنا جا ئز ہے۔چا ہے انسا ن گھو ڑے پر بیٹھے بیٹھے پڑھ لے۔چا ہے اشارے سے پڑھ لے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دشمن کے سا منے بندوق تا نے کھڑا ہو۔اور نما ز کا وقت آ جا ئے۔ایسی صورت میں اُ س کے لئے جائز ہو گا کہ وہ بندوق بھی سنبھا لے رکھے دشمن پر فا ئر بھی کر تا جا ئے اور نما ز کی عبا رتیں بھی دہر اتا جا ئے۔بلکہ یہ نما ز خو ف کی