تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 376
احادیث میں آتا ہے کہ ایک انصاری نے ایک عورت سے شادی کی مگر اس کا مہر مقرر نہ کیا۔ثُمَّ طَلَّقَھَا قَبْلَ اَنْ یَمَسَّھَا۔پھر مجامعت سے قبل اُسے طلاق دےدی۔جب یہ معاملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے اُس سے پوچھا کہ کیا تم نے احسان کے طور پر اسے کوئی چیز بھی دی ہے اُس نے کہا۔یا رسول اللہ ! میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔آپ نے فرمایا۔مَتِّعْھَا بِقَلَنْسُوَتِکِ اگر تمہارے پاس اور کوئی چیز نہیں تو اپنی ٹوپی ہی اُتار کر اس کے حوالے کردو۔(تفسیربحرمحیط زیر آیت ھٰذا) اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا کس قدر حکم ہے۔کہ اگراور کوئی چیز نہ ہو تو مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹوپی یاپگڑی ہی اُتار کر اُسے دے دے اور خالی ہاتھ نہ جانے دے۔لیکن اگر اس بارے میں کوئی جھگڑا پیدا ہوتو چونکہ قرآن کریم نے اصولی طور پرفیصلہ فرما دیا ہے کہ جھگڑے کی صورت میں اولی الامر کی طرف رجوع کیا کرو۔اس لئے اختلاف کی صورت میں قاضی کے پاس فیصلہ لے جانا چاہیے وہ حالات دیکھ کر فیصلہ دے گا کہ خاوندنے اپنی حیثیت کے مطابق عورت کو اُس کا حق ادا کیا ہے یا نہیں؟ وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ اور اگر تم انہیں قبل اس کے کہ تم نے انہیں چھوا ہو لیکن مہر مقرر کر دیا ہو طلاق دے دو تو (اس صورت میں ) لَهُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ جو مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا آدھا (ان کے سپرد کرنا) ہوگا۔سوائے اس (صورت)کے کہ وہ (یعنی عورتیں ) معاف يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ کر دیں یا وہ (شخص) معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح (کا) باندھنا ہو۔اور تمہارا معاف کر دینا تقویٰ کے لِلتَّقْوٰى ١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا زیادہ قریب ہے۔اور تم آپس میں (معاملہ کرتے وقت) احسان کو نہ چھوڑا کرو۔(اور یاد رکھو) کہ جو کچھ تم کرتے ہو