تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 375

اَلْمُقْتِرِ اَقْتَرَسے اسم فا عل ہے۔اور اَقْتَرَ عَلیٰ عَیَالِہٖ کے معنے ہیں قَلَّ مَا لُہٗ وَافْتَقَرَ اُ س کا مال کم ہوگیا اور وہ محتا ج ہو گیا۔اور اَقْتَرَ اللّٰہُ رِزْقَہٗ کے معنے ہیں ضَیَّقَہٗ وَ قَلَّلَہٗ۔اللہ تعالیٰ نے اس کا ما ل کم کر دیا اور اسے تنگ دست کر دیا۔(اقرب) تفسیر۔اب طلاق کے متعلق اللہ تعالیٰ بعض اور احکا م بیا ن فر ما تا ہے۔طلاق کی پہلی صورت تو یہ تھی کہ میاں بیوی میں کو ئی شدید اختلا ف پیدا ہوا اور طلاق وا قع ہو گئی۔مگر بعض ایسی بھی عورتیں ہو تی ہیں کہ میاں بیوی ابھی اکٹھے بھی ہو نے نہیں پا تے کہ طلاق وا قع ہو جا تی ہے۔مثلاً نکا ح کے معًا بعد ایسے گوا ہ مل گئے جنہوں نے ایسی گوا ہیا ں دیں جن سے نکاح کی حر مت ثا بت ہو گئی یا کم سے کم نکا ح کی کر اہت پیدا ہو گئی۔مثلاً ادھوری گوا ہی ایسی مل گئی کہ یہ عورت خا وند کی رضا عی بہن ہے۔پس گووہ ادھوری گوا ہی ہو مگر خا وند کے دل میں کرا ہت تو پیدا ہو جائے گی اور اس قسم کی گوا ہیا ں بعض دفعہ نکاحوں کے بعد مل جا تی ہیں۔پس ایک صورت تو یہ ہے جس میں چھونے سے بھی پہلے طلاق دینے کی ضرورت پیش آ جا تی ہے۔اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ نکا ح کے بعد دونوں خا ندانوں کے بعض اکا بر جن کو پہلے اس تعلق کا علم نہ ہوا ہو فیصلہ دے دیں کہ ہما رے آ پس کے تعلقا ت ایسے ہیں کہ تم دونو ں آپس میں نبھا نہیں کر سکو گے۔اس لئے بہتر ہے کہ عورت کو طلاق دے دو اور وہ چھونے سے پہلے اُسے طلا ق دے دے۔اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِيْضَةً سے پتہ لگتا ہے کہ ایسا نکاح جس میں کوئی مہر مقرر نہ کیا گیا ہو وہ بھی جائزہوتا ہے لیکن جیسا کہ اسلامی فقہاء نے تصریح کی ہے خواہ مہر کی تعیین نہ کی گئی ہو یہ ضرورسمجھا جائےگا کہ مہر مقرر ہے اور اس کی تعیین مہر بالمثل سے کی جائےگی۔یعنی اسی حیثیت کے خاندان کے دوسرے افراد کو دیکھا جائےگا کہ اُن کا کیا مہر ہے؟ اور وہی مہر اس عورت کا قرار دیاجائےگا۔(الھدایۃ شرح البدایۃ کتاب النکاح باب المہر)۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ ہدایت دیتاہے کہ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ۔اگر تم عورتوں کو اُن کے چھونے سے پہلے طلاق دے دو یا ایسی صورت میں طلاق دو کہ تم نے اُن کا مہر مقرر نہ کیا ہو تو دونوں صورتوں میں تمہارا فرض ہو گا کہ تم اُن سے حسنِ سلوک کرو اور انہیں مناسب رنگ میں کچھ سامان دے دو۔مالی وسعت رکھنے والا اپنی طاقت کے مطابق اس کام میں حصہ لے اور تنگدست اپنے حالات کو مدنظر رکھ کر حصہ لے اور یہ صرف طوعی نیکی نہیں بلکہ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ نیکی اور تقوٰی سے کام لینے والوں پر ہم نے یہ واجب کر دیا ہے کہ وہ عورتوں کو حسن سلوک کے ساتھ رخصت کریں۔