تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 374

رہو اور احکام الٰہی کی خلا ف ورزی کر نے کی جرأ ت نہ کر و۔یا یہ کہ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ میں دوسرا حکم ہے اور وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ میں لَا تُوَاعِدُوْهُنَّ۠ سِرًّا کے حکم کے سلسلہ میں یہ بتا یا گیا ہے کہ تم ان سے کو ئی مخفی معاہدہ نہ کر و۔کیو نکہ ا للہ تعالیٰ تمہا رے دل کی باتوں تک کو جا نتا ہے۔وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌکا یہ مطلب نہیں کہ اگر ان احکا م کی خلا ف ورزی ہو جا ئے تو تم اللہ تعالیٰ کو غَفُوْرٌاور حَلِيْمٌ پا ؤ گے۔بلکہ اس میںلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ کی حکمت بتا ئی ہے۔کہ چونکہ خدا تعالیٰ پردہ پو ش ہے اور وہ انسان کی کمزوری سے واقف ہے۔اس لئے اس نے صرف چا ر ما ہ دس دن کی عدّت مقرر کی ہے۔زیا دہ سخت احکا م اس نے نہیں دئیے۔اور حلیم کہہ کر بتا یا کہ اللہ تعالیٰ دانا ہے۔وہ جا نتا ہے کہ اس غرض کے لئے کس قدر انتظار کر نا ضر وری ہے۔اگر اس قسم کے احکا م نہ دئیے جا تے تو تمدّن میں کئی قسم کی خرا بیا ں پیدا ہو جا تیں اور سوسائٹی کا نظام درہم بر ہم ہو جا تا۔پس اس خیال سے کہ نکا ح تقویٰ کا ایک ذریعہ ہے۔جلدی نہ کر و۔خداتعا لیٰ اس امر کو بہتر سمجھتا ہے کہ تمہا رے لئے کس قدر دیر منا سب ہے۔لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت بھی طلا ق دے دو جبکہ تم نے ان کو چھوا تک نہ ہو۔یامہر نہ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِيْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ مقرر کیا ہو۔اور (چاہیے کہ اس صورت میں) تم انہیں مناسب طور پر کچھ سامان دو۔(یہ امر) دولت مند پر اس کی طاقت وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۲۳۷ کے مطابق (لازم ہے) اور نادار پر اس کی طاقت کے مطابق (ہم نے ایسا کرنا) نیکوکاروں پر واجب کر دیا ہے۔حلّ لُغا ت۔اَلْمُوْ سِعُ اَوْسَعَ سے اسم فا عل ہے۔اور اَوْسَعَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں صَارَ ذَا سَعَۃٍ وَ غِـنًی وہ آدمی وسعت والا ہو گیا۔یا غنی ہو گیا۔اور اَوْسَعَ اللّٰہُ عَلٰی فُلَانٍ کے معنے ہیں اَغْنَاہُخدا تعالیٰ نے اسے غنی کر دیا۔( اقرب)