تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 373

تَعْنِیْہِ فَا لتَّعْرِیْضُ ضِدُّ التَّصْرِ یْحِ مِنَ الْقَوْلِ( اقرب) یعنی تعر یض ایسے کلا م کوکہتے ہیں جو تصریح کے مخا لف ہو۔اور صرف اشارۃً ایسی بات کہی جائے جس کا اصل مفہوم کہنے والا ہی سمجھتا ہو۔صا حب مفر دات لکھتے ہیں۔اَلتَّعْرِیْضُ کَلَامٌ لَہٗ وَ جْھَانِ مِنْ صِدْ قٍ وکِذْبٍ اَوْ ظَاھِرٍ وَ بَا طِنٍ یعنی تعریض ایسے کلام کو کہتے ہیں جس کے صدق اور کذب یا ظا ہر اور با طن کے لحا ظ سے دو مفہوم سمجھے جا سکیں۔تَعْز مُوْا عَزَ مَ الْاَ مْرَ وَعَلَیْہِ کے معنے ہیں عَقَدَ الضَّمِیْرَ عَلَیْہِ۔کسی با ت کا پختہ ارادہ کر لیا (اقرب)۔تفسیر۔فر ماتا ہے اس میں کو ئی حرج نہیں کہ تم ان عورتوں سے نکا ح کے سلسلہ میں کو ئی بات اشارۃً کہہ دو۔مثلا ً کسی بیوہ سے کہہ دیا کہ مشورہ سے کام کر نا بہتر ہو گا۔آ پ کواگر کو ئی ضرورت محسوس ہو تو میں ہمدردانہ مشورہ کے لئے حا ضر ہوں۔اب لفظ مشورہ عا م ہے خوا ہ وہ اپنے لئے ہو یا کسی اور کے لئے۔اس طرح با ت بھی مخفی رہتی ہے اور اشا رۃً اس کا اظہار بھی ہو جا تا ہے۔اسی طر ح ارادہء نکا ح کو اپنے دل میں مخفی رکھنا بھی جائز ہے۔تا وقتیکہ چار ما ہ اور دس دن کی میعا د نہ گزر جائے۔لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ۠ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا میں عورتوں سے خفیہ معا ہدہ نکا ح کی کلّی مما نعت کر تے ہو ئے قو لِ معروف کی اجا زت دی گئی ہے مگر قول معروف سے شادی کی درخوا ست مراد نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس سے ہمدردی اور غمخواری کا اظہار کرو تاکہ اس پر یہ اثر ہو کہ یہ شخص میرا خیر خوا ہ ہے۔اورمیں اس سے ضرورت پر مفید مشورہ لے سکتی ہوں ورنہ یہ مطلب نہیں کہ اسے صا ف طور پر نکا ح کے لئے کہہ دیاجا ئے ایسا کہنا ہر گز جا ئز نہیں۔چنا نچہ فرماتا ہے۔وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ تم دو نو ں مل کر اس امر کا فیصلہ نہ کرلو کہ عدّت کے بعد ہم آپس میں نکا ح کر لیں گے۔اس سے پہلے اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ میںتو مر دوں کو سمجھا یا کہ وہ شادی کے متعلق عورتوں کے سامنے پورا اظہا ر نہ کر یں۔ہا ں !اگر وہ دل میں نیت رکھیں تو اس میں کو ئی حر ج نہیں۔مگر اس جگہ عورتوں کو بھی منع کر دیا ہے کہ اگر وہ مر دوں کی با ت کو سمجھ جا ئیں تو فوراً ہا ں نہ کر دیں بلکہ وہ بھی خا مو ش رہیں اور اپنے ارادہء نکا ح کا ان کے سامنے اظہا ر نہ کر یں۔اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر اس لئے کیا ہے کہ عا م طور پرلو گ ایسے امور میں احتیاط سے کا م نہیں لیتے اور نفسا نی جو شوں سے دب جاتے ہیں۔اللہ تعا لیٰ فر ماتا ہے کہ عدت کے اندر تمہارا نکا ح کے متعلق آپس میں کو ئی فیصلہ کر لینا قطعی طور پر ناجائز ہے۔اس کے بعد فر ما تا ہے وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ تمہا رے دلوں میں جو کچھ ہےاللہ تعالیٰ اسے خو ب جا نتا ہے۔پس تم اس سے ڈرو۔اور سمجھ لو کہ کسی اور کو پتہ ہویا نہ ہوخدا تعالیٰ کو تو پتہ ہے اس لئے تم چو کس