تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 372
عورتوں کو نکا ح ثا نی سے روکتے ہیں فر ما تا ہے۔اگر وہ نکا ح کر لیں تو کیا تم پر کو ئی گنا ہ ہے۔یعنی ہرگز کو ئی گناہ نہیں۔پھر تم انہیں نکاح سے کیوں رو کتے ہو؟ وہ اپنے نفوس کے متعلق جو کچھ فیصلہ کر یں اس کا وہ حق رکھتی ہیں۔ہا ں !اس میں یہ اشا رہ ضرور پا یا جا تا ہے کہ اگر وہ کو ئی غیر معروف کا م کر یں اور حکام و اولیاء انہیں نہ روکیں تو یہ گنا ہ ہو گا۔بیوہ کے لئے چا ر ما ہ دس دن کی مدت مقرر کر نے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر عورت حا ملہ ہو تو اس عرصہ میں جنین میں حر کت پیدا ہو جا تی ہے اور اسے حمل کا یقینی طور پر علم ہوجا تا ہے۔جس کے نتیجہ میں ضروری ہو تا ہے کہ وہ نکا ح کے لئے وضع حمل تک انتظار کرے۔وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ عورتوں سے نکاح کی درخوات کے متعلق جو بات تم اشارۃً (ان سے) کہو النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ یا اپنے دلوں میں رکھو اس پر تمہیں کوئی گناہ نہیں۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ۠ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا کہ تمہیں ضرور ان کا خیال آئے گا۔لیکن تم ان سے خفیہ طورپر (کوئی) معاہدہ نہ کرلو۔ہاں یہ( اجازت ہے) قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى يَبْلُغَ کہ تم ان سے کوئی مناسب بات کہہ دو۔اورجب تک (عدّت کا ) حکم اپنی میعاد کو (نہ )پہنچ جائے الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ (اس وقت تک ) تم نکاح کرنے کا پختہ ارادہ نہ کرلو۔اور جان لو کہ تمہارے دلوں میں جو (کچھ بھی) ہے اللہ( تعالیٰ) فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌؒ۰۰۲۳۶ اسے جانتا ہے۔پس تم اس (بات) سے ڈرو۔اور جان لو کہ اللہ (تعالیٰ) بہت بخشنے والا (اور) بردبار ہے۔حلّ لُغات۔عَرَّ ضْتُمْ عَرَّ ضْتُ لَہٗ وَعَرَّضْتُ بِہٖ تَعْرِ یْضًا کے معنے ہیں اِذَا قُلْتَ قَوْلًا وَاَنْتَ