تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 371

وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ اور تم میں سے جن( لوگوں) کی روح قبض کر لی جاتی ہے۔اور وہ (اپنے پیچھے) بیویاں چھوڑ جاتے ہیں (چاہیے کہ) بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ وہ (یعنی بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے (اور) دس (دن) تک روک رکھیں۔پھر جب وہ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِنَّ اپنا مقررہ وقت پورا کر لیں وہ اپنے متعلق مناسب طور پر جو کچھ (بھی) کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۰۰۲۳۵ اور جو تم کرتے ہو اللہ (تعالیٰ) اس سے واقف ہے۔حلّ لُغات۔یَتَرَ بَّصْنَ میں مبتدا محذوف ہے۔یعنی حُکْمُ اَ زْوَاجِھِمْ اَنْ یَّتَرَ بَّصْنَ اَوْ اَ زْوَاجُھُمْ یَتَرَ بَّصْنَ یعنی حُکْمُ اَ زْوَاجِھِمْ مبتدا ہے جو محذوف ہے اور اَنْ یَّتَرَ بَّصْنَ اُس کی خبر ہے۔(املاء ما منّ بہ من الرحمٰن) تفسیر۔اس آ یت سے استدلال کر تے ہو ئے بعض لو گ کہتے ہیں کہ اگر چا ر ماہ دس دن کی عدّت گذرنے کے بعد عورتیں اپنے مستقبل کے متعلق کو ئی قدم اٹھائیں۔تو مردوں پر تو کو ئی گناہ نہ ہو گا لیکن عورتوں پر گنا ہ ہو گا کیو نکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ مَتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ (البقرة:۲۴۱) یعنی عورتوںکو اپنے گھروں سے ایک سال تک کوئی شخص نکا لنے کا مجا ز نہیں۔لیکن میر ے نز دیک یہ با ت درست نہیں کہ ایسی صورت میں عورتوں پر گنا ہ ہے کیو نکہ اسی آ یت میں اس کے بعد بِالْمَعْرُوْفِ کا لفظ آ یا ہے جس سے صا ف ثابت ہے کہ اگر وہ نکا ح ثا نی کرلیں تو یہ صرف جا ئز ہی نہیں بلکہ ایک پسند یدہ اور قا بل ستا ئش فعل ہے۔اگر گنا ہ ہو تا تو بِا لْمَعْرُوْف کے الفاظ استعمال نہ کئے جاتے کیو نکہ معروف کے معنے را ئج الوقت قا نو ن یا فطرتی جذبہ یا عقلِ عا مہ کے مطا بق کسی کام کے کر نے کے ہو تے ہیں۔اور جو کا م قا نو ن کے مطا بق ہو یا فطر تی جذ بہ کے مطا بق ہو یا انسا نی عقل اس کا تقاضا کر تی ہو اس کا م کو کو ئی دانا شخص بُرا قرار نہیں دے سکتا۔در حقیقت یہ آیت ان لوگو ں کے لئے زجر ہے جو بیوہ