تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 370

معنے سپر د کر نے کے بھی لئے جا ئیں تب بھی اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ پہلے اجر ت سپرد کرو تب دودھ پلوا نا جا ئز ہو گا بلکہ یہاں ایک قا عدہ بیا ن ہوا ہے، اور وہ یہ کہ اگر اجرت سپر د نہ کرو گے تو گنا ہ ہو گا گو یا اِذَاسَلَّمْتُمْ فَلَا جُنَا حَ عَلَیْکُمْ کے سا تھ ہے نہ کہ تَسْتَزْضِعُوْا کے سا تھ۔مگر سَلَّمْتُمْ کے معنے حل کر نے کے بعد بھی یہ سوا ل قا ئم رہتا ہے کہ اس جگہ اٰتَیْتُمْ کا لفظ استعما ل کیا گیا ہے جس کے لفظی معنے ہیں ’’تم نے دے دیا ہے‘‘ یا ’’ تم دے چکے ہو‘‘۔اس لحا ظ سے اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ جب تم اس حق پر رضا مند ہو جا ؤ جو تم دے چکے ہو۔اور ظا ہر ہے کہ یہ ایک بے معنے فقرہ بن جا تا ہے۔سویاد رکھنا چا ہیے کہ عر بی زبان میں کبھی ما ضی کا صیغہ قطعی فیصلہ پر دلا لت کر نے کے لئے بھی استعمال کیا جا تا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ ( المائدۃ:۷)۔جب تم نما ز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے مو نہوں کو اور اپنے ہا تھو ں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو حا لا نکہ وُضو نماز کے لئے کھڑے ہو نے سے پہلے کیا جاتا ہے نہ کہ کھڑے ہو تے وقت۔پس یہاں یہی مراد ہے کہ جب تم نما ز کا پختہ ارادہ کر لو تو پہلے وُ ضو کر لیا کر و۔اور یہی اٰتَیْتُمْ کے معنے ہیں کہ جو کچھ تم اسے دینے کا پختہ فیصلہ کر چکے ہو۔اگر اس کے یہ معنے نہ کئے جا ئیں تو آ یت کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ پہلا روپیہ جو تم اسے دے چکے ہو وہ اسے پھر دے دو۔یعنی اگر پہلے سو روپیہ دے چکے تھے تو پھر اور سو روپیہ دےدو حا لانکہ اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کر تا۔درحقیقت اس کے یہی معنے ہیں کہ اگر تم اپنے بچوں کو کسی دوسری عورت سے دودھ پلوا نا چا ہو تو اس میں کو ئی حرج نہیں بشر طیکہ تم نے اسے جو کچھ دینے کا پختہ فیصلہ کیا ہے اس پر پورے طور پر قا ئم ہو جا ؤ اور اس میں کسی قسم کی حیل و حجت سے کا م نہ لو۔اس آ یت میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ حق الخد مت کے لئے ضروری ہو تا ہے کہ اس کے ادا کرنے کا انسا ن ایسا عہد کر ے کہ گو یا ادا کرہی دیا ہے اور با لمعروف کہہ کر اس امر کی طرف تو جہ دلا ئی ہے کہ حق الخدمت ادا کر نے میں معروف کو مد نظر رکھنا ضروری ہو تا ہے۔یعنی معا وضہ ملک کی اقتصا دی حا لت کے مطا بق ادا کیا جا ئے۔اس قدر کم نہ ہو کہ اس وقت کی اقتصا دی حا لت کے مطا بق اس سے دودھ پلا نے وا لی عورت کا گزارہ ہی نہ ہو سکے۔اسی طرح با لمعروف میں اس امر کی طر ف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر تمہا ری مالی حالت عا م لو گو ں سے اچھی ہو تونہ صرف پہلی حد بندی کو مدّ نظر رکھو بلکہ اس سے زائد یہ امر بھی مدنظررکھو کہ ایسا حق الخدمت ادا کرو۔جو تمہاری اپنی ما لی حالت کے مطا بق ہو۔گویا کم سے کم حق الخدمت تو وہ ہو جو اس زمانہ کے حالات کے مطابق گزارہ کے لئے کا فی ہو۔لیکن اگر ہو سکے تو اس سے زیا دہ دو اور صرف زما نہ کے حا لا ت کے مطا بق ہی نہ دو بلکہ اپنی ما لی حا لت کو مد نظر رکھتے ہو ئے ایسا معاوضہ دو جو تمہا رے حا لات کے مطا بق ہو۔