تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 369

پر کھڑا کر کے برا بر کے اختیار دیئے گئے ہیں۔ہا ں یہ شرط ضرور ہے کہ دودھ پلا نے کی جو مدت قرآن کر یم نے مقرر کی ہے اس سے زیا دہ دیر تک دودھ پلا نے پر نہ خا وند مجبور کر سکتا ہے نہ عورت زور دے سکتی ہے۔جب طلا ق کے بعد بھی عورت کے جذبات کا اس قدر خیال رکھنے پر خا وند کو مجبو ر کیا گیا ہے تو ظا ہر ہے کہ جو عورت نکا ح میں ہو ان امور میں اس کے جذبات کا خیال رکھنا اسلام کے نزدیک کس قدر ضروری ہو گا۔وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا۠ اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ میں بتا یا کہ بچوں کو دوسروں سے دودھ پلوا نا حقوق پدری کے خلا ف نہیں نہ حقوق ما دری کے خلا ف کہ اس کو گنا ہ سمجھو گنا ہ تب ہو گا اگر بلا اجرت دینے کے ظلماً کسی سے یہ کا م لو۔کیو نکہ اس صورت میں تم نے دو گنا ہ کئے ایک تو دوسرے کا ما ل لینے کا اور ایک بچہ کے حقوق ادا نہ کر نے کا۔انہی معنوں سے لَا جُنَا حَ کے معنے حل ہو تے ہیں۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ بچے کے حقوق بطور حق کے ہیں اور ان میں کمی کر نا مو جب گنا ہ ہو تا ہے۔اِذَا سَلَّمْتُمْ مَآاٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ کے متعلق سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ یہ تو بظاہر ایک بے معنی فقرہ معلو م ہو تا ہے۔کیو نکہ اس کے لفظی معنے یہ بنتے ہیں کہ جب تم دے دو جوتم دے چکے ہو۔حالا نکہ جو معا وضہ ایک دفعہ دے دیا گیا ہو اس کے دوبا رہ دینے کا سوا ل ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس مشکل کو دیکھتے ہو ئے بعض لو گ کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ مر ضعہ کی مزدوری پہلے دینی ضروری ہے مگر میرے نزدیک اس سے مزدوری پہلے دینا ثا بت نہیں کیونکہ سَلَّمَ کے معنے صرف سپر د کرنے کے ہی نہیں ہو تے بلکہ اس کے معنے را ضی ہو نے کے بھی ہو تے ہیں۔چنا نچہ عربی زبا ن میں سَلَّمَ بِہ کے معنے ہو تے ہیں رَضِیَ وہ اس سے را ضی ہوگیا۔(اقرب) قر آ ن کر یم میںبھی یہ لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا(النسا ء : ۶۶) یعنی تیرے ربّ کی قسم جب تک وہ ہر اس با ت میںجس کے متعلق ان میں جھگڑا ہو جا ئے وہ تجھے حکم نہ بنا ئیں اور پھر جو فیصلہ تو کر ے اس سے وہ اپنے نفوس میںکسی قسم کی تنگی محسوس نہ کر یں اور پورے طور پر را ضی نہ ہو جا ئیں اس وقت تک وہ ہر گز مو من نہیں ہو ںگے، ان معنوں کو مد نظر رکھتے ہو ئے اِذَا سَلَّمْتُمْ کے یہ معنے ہوںگے کہ جب تم دودھ پلا نے وا لیوں کو منا سب حق دینے پر رضا مند ہو جا ؤ اور تمہا ری نیت یہ ہو کہ تم اتنی رقم بہر حا ل دے دو گے تو پھرکسی دوسری عورت سے دودھ پلوا نے میں کو ئی حرج نہیں۔گو یا ایتان بالمعروف پر با ہم رضا مند ہو جا نے کے بعد اگر کسی اور سے دودھ پلوا لو تو کو ئی گنا ہ نہ ہو گا۔ان معنوں کے لحا ظ سے اُجرت کا پہلے دینا ضروری نہیں۔مگر اجر ت کا پہلے مقرر ہو جانا بہر حال ضروری ہے۔لیکن اگر سَلَّمْتُمْ کے