تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 368

طرف اشا رہ فر مادیا کہ مر د سے یہ مطا لبہ کر نا کہ وہ اپنی طا قت سے زیا دہ خرچ کر ے یہ بھی نا منا سب ہے اور عورت سے یہ مطا لبہ کر نا کہ وہ ایک نوکر کی طرح طلا ق کے بعد ایک عرصہ گھر میں گزار دے یہ بھی نا منا سب ہے۔لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ما ں اپنے بچہ کی وجہ سے با پ کو ضرر نہ دے اور یہ بھی کہ ما ں اپنے بچے کی وجہ سے ضرر نہ دی جا ئے اس آ یت میں مر د اور عورت دونو ںکو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ بچہ کو ایک دوسرے پر دباؤ ڈا لنے کا ذریعہ نہ بنا ؤ۔بہت سے نا دا ن اس حرکت کے مر تکب ہو تے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ یا تو بچے ہلا ک ہو جا تے ہیں یا ان کی تر بیت خراب ہو تی ہے۔اس قسم کا فعل درحقیت قتلِ اولاد کے مشا بہ ہے۔اور قرآ ن کر یم نے اس سے روک کر آ ئندہ اولا دوں پر احسان عظیم کیا ہے۔وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ کا عطف وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ پر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب حق قا ئم کیا ہے جو تمدن کی صورت ہی بدل دیتا ہے۔اور حکم دیا ہے کہ اگر با پ مر جا ئے تو باپ کے جو ورثاء ہو ں۔ان پر بچہ کو دودھ پلا نے وا لی عورت کا خرچ ہو گا۔گو یا ورثہ کے سا تھ بو جھ بٹا نے کا کا م بھی ان کے سپرد کر دیا۔خواہ انہیں ترکہ ملا ہو یا نہ ملا ہو، تھوڑا ہو یا بہت۔چنا نچہ فر ما یا وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ۔وارث پر بھی ویسا ہی حق ہے جیسا کہ با پ پر یعنی با پ کا وارث خوا ہ لڑکا ہو خواہ کو ئی قریبی رشتہ دار اس پر یہ خرچ وا جب ہو گا۔یعنی اس کی پر ورش کر نا احسا ن کے طور پر نہیں ہو گا بلکہ ایک حق کے طور پر ہو گا جواللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وا جب کیا گیا ہے۔اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس بچہ کے حصہ میں سے خر چ دیا جا سکتا ہے۔بہر حال اس آ یت میںاللہ تعالیٰ نے تمدن کی ایک نئی بنیا د رکھی ہے کہ کمزور بچوں کی تربیت بطورحق ورثاء پر ڈال دی ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جب دودھ پلا یا جا چکے تو پھر وہ بچوںکو لا وارث چھو ڑ دیں بلکہ اس حق کو بلو غث تک ممتد کر نا پڑے گا اور ان کا فرض ہو گا کہ وہ بچہ کے کھا نے اور لبا س کے اخراجا ت کے علا وہ اس کے تعلیمی اخرا جات بھی با لغ ہو نے تک پورے کر یں اور اس کی اعلیٰ درجہ کی تر بیت مد نظر رکھیں تا کہ وہ قوم کا ایک مفید وجود بن سکے۔بعض لو گ کہتے ہیں کہ یہ خرچ نسبتی طور پر تمام ورثاء پر پڑے گا۔اور بعض کہتے ہیں کہ صرف سب سے بڑھ کر حق وراثت رکھنے والا شخص اس کا ذمہ دار ہو گا۔خواہ اسے ترکہ میں سے کچھ ملا ہو یا نہ ملا ہو۔فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا سے معلوم ہو تا ہے کہ بچے کے متعلق دودھ پلانے یا چھڑانے کا فیصلہ قر آ ن کر یم نے نہ مر د کے اختیا ر میں رکھا ہے نہ عورت کے اختیار میں بلکہ دونوں کومشترکہ اختیار دیا ہے۔شا ید تما م شرا ئع کی تاریخ میں یہ منفرد مثا ل ہے کہ اس طرح اہلی معا ملا ت میںمیا ں بیوی کو ایک مقا م