تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 367

تَسْتَرْضِعُوْۤا۠ اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ عورت سے)دودھ پلوا نا چاہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں جب تم وہ (معاوضہ )جوتم نے دینا کیا ہے اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا مناسب طور پر ادا کردو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۰۰۲۳۴ اللہ اسے یقیناً دیکھتا ہے۔حل لغا ت۔تَسْتَرْ ضِعُوْا اِسْتَرْ ضَعَ کے معنے ہیں طلب مُرْ ضِعَۃً اُس نے کسی دودھ پلا نے والی عورت کو طلب کیا۔اور اِسْتَرْ ضَعَ وَالِدُہٗ کے معنے ہیں وا لد نے اپنے بچہ کو کسی اور سے دودھ پلوا لیا۔اور اِسْتَرْ ضَعَتِ الْمَرْأَۃُ الطِّفْلَ کے معنے ہیں اِتَّخَذَتْ مُرْ ضِعَۃً لَھَا۔اس نے دودھ پلا نے کےلئے دایہ کو رکھ لیا۔(تاج العروس) تفسیر۔چو نکہحَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ سے یہ دھو کا لگ سکتا تھا کہ دو سال تک رضاعت ضروری ہے اس لئے لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ فر ما کر بتا دیا کہ اس سے کم مدّت بھی ہو سکتی ہے۔لیکن اس میں دو سا ل سے زیا دہ کی نفی بھی کر دی گئی ہے کیو نکہ کَامِلِیْنَ کا لفظ بتا تا ہے کہ دو سال سے زیا دہ دودھ پلا نا جا ئز نہیں۔وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ میں کھا نے اور کپڑے سے مرا د تما م اخرا جا ت ہیں نہ کہ صرف روٹی اور لباس۔اور معروف سے مراد با پ کی مقدرت ہے کہ امیر اپنی طا قت کے مطا بق دے اور غریب اپنی طا قت کے مطا بق۔اس جگہ عا م دودھ پلا نے وا لی عورتوں کا ذکر نہیں بلکہ ماؤں کا ذکر ہے۔اور یہ ذکر طلاق کے ضمن میں کیا گیا ہےکہ اگر دودھ پلانے والی عورت کو طلا ق دی جا ئے تو بچہ کی خا طر عورت کے لئے یہ ضروری ہے کہ بچے کو دودھ مقررہ مدت تک پلا ئے اور اس کے بدلہ میں خا وند پر فرض ہے کہ عا م مزدور عورت کی طرح نہیں بلکہ اپنی تو فیق کے مطا بق اسے خرچ دے کیو نکہ یہ امر عورت کے جذبا ت کو ٹھیس پہنچانے والا ہو گا کہ ایک طرف تو اسے مجبور کیا جائے کہ وہ طلا ق کے بعد بھی بچہ کو دودھ پلا تی رہے۔اور دوسری طرف اسے ایسی حا لت میں رکھا جا ئے جو پہلی حالت سے ادنیٰ ہو اور اس کے لئے ذلت کا مو جب ہو مگر اس کے سا تھ ہی لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا کہہ کر اس