تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 366
صورت میں بھی رضا مند نہ ہوں تو وہ حاکم وقت اور قا ضی کے ذریعہ کسی دوسری جگہ جہا ں وہ اجازت دے نکا ح کراسکتی ہے یا قا ضی کی معرفت اولیاء پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ روکیں نہ ڈالیں۔ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ میں بتا یا کہ یہ قا نو ن تمہا رے لئے دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے بڑا مفید اور با بر کت ہے۔یعنی تمدنی نقطہ نگا ہ سے بھی اس قانو ن کی متا بعت تمہا رے لئے مفید ہے اور اخلاقی نقطہء نگاہ سے بھی یہ قانون تمہارے اندر پا کیزگی کی روح پیدا کر نے والا ہے۔وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔(یہ ہدایت )ان اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ کے لئے (ہے) جو دودھ پلانے (کے کام) کو (اس کی مقررہ مدت تک) پورا کرنا چاہیں۔اور جس کا بچہ ہے اس کے كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا ذمہ حسب دستور ان( دودھ پلانے والیوں )کا کھانا اور ان کی پوشاک ہے۔کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی۔کسی والدہ کو اپنے بچے کے ذریعہ سے دکھ نہ دیا جائے۔اور نہ باپ کو اس کے بچے کی وجہ الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ سے(دکھ دیا جائے)اور وارث پر (بھی )ایسا ہی (کرنا لازم )ہے۔اور اگر وہ دونوں آپس کی رضا مندی اور مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ باہمی مشورہ کے ساتھ دودھ چھڑانا چاہیں تو (اس میں )ان پر کوئی گناہ نہیں۔اور اگر تم اپنے بچوں کو (کسی دوسری