تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 365
اور اس میں جس قدر حکمتیں ہیں کوئی کتاب ان کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔مگر یہ ضروری نہیں کہ ساری حکمتیں ہر شخص پر کھل جائیں۔ہاں ہر زمانہ میں قرآن کریم کے کچھ نئے معنے کھلتے ہیں اور اُن کے علاوہ کچھ زائد معنے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اگلوں کے لئے رکھے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔جو لوگ قرآن کریم میں نسخ قرار دیتے ہیں۔وہ اس کے ثبوت کے طور پر اس قسم کی کوئی دلیل پیش نہیں کرتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہو کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ فلاں آیت منسوخ ہے۔یا آپؐ نے یہ فرمایا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں آیت منسوخ کر دی ہے یا لوگ آپؐ کی مجلس میں آئے ہوں اور آپؐ نے فرمایا ہو کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ آج رات یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے۔وہ صرف استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ فلاں آیت کا فلاں آیت کے مخالف مفہوم ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک ناسخ ہے اور دوسری منسوخ۔گویا جو آیت بھی اُن سے حل نہیں ہوتی اُسے وہ منسوخ قرار دے دیتے ہیں۔اور یہ محض عدم علم کی وجہ سے ہوتا ہے۔مگر تعجب کی بات ہے کہ اِدھر تو وہ یہ کہتے ہیں کہ احاد احادیث قرآن کریم کو منسوخ نہیں کرتیں۔اور یہ بات صحیح ہے۔ہم بھی کہتے ہیں کہ ایک چھوڑ کروڑ احاد احادیث بھی قرآن کریم کا کوئی حصہ منسوخ نہیں کر سکتیں مگر دوسری طرف وہ اپنے ظن اور قیاس سے کام لے کر قرآن کریم کی آیات کو منسوخ قرار دینے لگ جاتے ہیں۔اِنَّالِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔منسوخ کی وہ قسم کہ جس کے الفاظ بھی منسوخ ہوں اور حکم بھی منسوخ ہو اس کی وہ کوئی مثال پیش نہیں کرتے حالانکہ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس کی کوئی مثال پیش کرتے اور بتاتے کہ فلاں آیت قرآن کریم میں تھی اور اس کے الفاظ اور حکم دونوں منسوخ ہیں۔وہ صرف تحویلِ قبلہ کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کا حکم قرآن کریم میں تھا مگر اس کے الفاظ وہ پیش نہیں کرتے اس لئے ان کا یہ دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں سمجھا جاسکتا۔پھر جن آیات کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہ صحابہؓ کو بھول گئی تھیں۔اُن کا بُھولنا تو ایک معجزہ بن جاتا ہے۔اگر کبھی ایسا ہوا ہوتا تو اس کے متعلق سارے صحابہؓ میں شور پڑجانا چاہیے تھا۔کیونکہ آپ سینکڑوں آدمیوں کو قرآن کریم سکھاتے اور حفظ کرواتے تھے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک لڑائی میں ستر قاری شہید ہو گئے تھے(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الرجیع۔۔۔۔۔)۔جب صرف ایک لڑائی میں شہید ہونے والوں کی تعداد اس قدر ہو تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں کس قدر قاری پائے جاتے تھے اور یہ سینکڑوں حفّاظ ان پانچ حفّاظ کے علاوہ تھے۔جنہیں آیات نازل ہونے کے فوراً بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یاد کروا دیتے تھے(بخاری کتاب العلم)۔یہ پانچ خاص حفّاظ تھے۔اور آگے ان کے سینکڑوں شاگرد تھے جن کو آیاتِ قرآنیہ حفظ