تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 357
جا ئےگی؟ تو آ پؐنے فر ما یا۔یہ ایک ہی طلا ق ہے۔چنانچہ حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طَلَّقَ رَکَا نَۃُ ثَلَاثًا فِیْ مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزَنَ عَلَیْہِ حُزْنًا شَدِ یْدًا فَسَأَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَیْفَ طَلَّقْتَھَا قَالَ طَلَّقْتُھَا ثَلَاثًا فِیْ مَجْلِسٍ وَاحِدٍ قَالَ اِنَّمَا تِلْکَ طَلْقَۃٌ وَا حِدَۃٌ فَا رْ تَجِعْھَا۔(تفسیر مظہری سورۃ البقرۃ زیر آیت ھٰذا) یعنی ایک شخص رکا نہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلا قیں دے دیں اس کے بعد رکانہ کو اپنے اس فعل پر شدید صدمہ محسوس ہواجب یہ معا ملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سا منے پیش ہوا تو آپ نے دریا فت فر ما یا کہ تو نے اپنی بیوی کو کس طر ح طلا ق دی تھی؟ اس نے کہا۔میں نے اسے ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دی تھیں۔آپؐنے فر ما یا۔یہ ایک ہی طلا ق ہے۔اس لئے تم رجو ع کر لو۔اسی طر ح نسا ئی میں محمود بن لبید سے روا یت ہے کہ اُخْبِرَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ اِمْرَ أَ تَہٗ ثَلَاثَ تَطْلِیْقَا تٍ جَمِیْعًا فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَا لَ اَ یُلْعَبُ بِکِتَا بِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاَنَا بَیْنَ اَظْھُرِکُمْ (نسائی کتاب الطلاق باب الثلاث المجموعۃ و فیہ من التغلیظ) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلا قیں دے دی ہیں۔اس پر رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت نا را ضگی کا اظہار کیا اور فرمایا۔ابھی تو میں تم میں مو جو د ہوں۔کیا میری موجودگی میں وہ اللہ تعالیٰ کی کتا ب سے کھیلتا ہے۔اسی طر ح حضرت ابن عباسؓ سے روا یت ہے کہ کَانَ الطَّلَاقُ عَلیٰ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ اَبِیْ بَکْرٍ وَ سَنَتَیْنِ مِنْ خِلَا فَۃِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَا ثِ وَ احِدَۃً فَقَا لَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّا بِ اِنَّ النَّا سَ قَدِاسْتَعْجَلُوْا فِیْ اَمْرٍ کَانَتْ لَھُمْ فِیْہِ اَنَاۃٌ فَلَوْ اَمْضَیْنَاہُ عَلَیْھِمْ فَاَمْضَاہُ عَلَیْھِمْ(مسلم کتاب الطلاق با ب طلا ق الثلاث) یعنی آنحضر ت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت ابو بکر ؓ کی خلا فت کے زما نہ میں اور حضرت عمرؓ کی خلا فت کے ابتدائی دو سال تک ایک وقت میں تین طلا قیں ایک ہی طلا ق تسلیم کی جا تی تھی۔لیکن حضرت عمرؓ نے یہ دیکھ کر کہ لوگ طلا قوں کو ایک معمولی با ت سمجھنے لگ گئے ہیں اور انہوں نے ایک ایسے معا ملہ میں جس میں انہیں بہت غور اور سوچ بچا ر سے کا م لینے کا حکم تھا جلد بازی شر وع کر دی ہے وقتی طو رپریہ فیصلہ فر ما دیا کہ آ ئندہ اگر کسی نے اکھٹی تین طلاقیں دیں تو اس کی تین طلا قیںہی متصور ہوںگی۔اما م ابن قیم نے اعلا م المو قعین جلد ۲ صفحہ ۲۴ تا ۲۶ میں اس مسئلہ کو وضا حت سے بیا ن کیا ہے۔بد قسمتی سے ہما رے ملک میں بھی اسلا می تعلیم سے نا وا قفیت کی وجہ سے یہ رواج ہے کہ معمو لی معمولی جھگڑوں پر لو گ اپنی بیویوں سے کہہ دیتے ہیں کہ تمہیں تین طلا ق۔تمہیں تین ہزار طلا ق۔تمہیں تین کڑور طلاق۔تمہیںتین ارب طلاق۔