تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 353

نہیں دیتا۔احا دیث میں صر احتاًذکر آ تا ہے کہ رسو ل کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زما نہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ لَا اُطَلِّقُکِ اَبَدًا وَلَااٰوِیْکِ اَبَدًا یعنی نہ تو میں تجھے کبھی طلا ق دو ںگا اور نہ اپنے گھر میں بسا ؤںگا۔عورت نے پو چھا۔وَکَیْفَ ذٰلِکَ یہ کس طر ح ہو سکتا ہے؟ اس پر اس نے کہا اُطَلِّقُ حَتّٰی اِذَا اَتٰی اَجَلُکِ رَاجَعْتُکِ میں تجھے طلا ق دوںگا اور جب تیر ی عدت ختم ہو نے کے قر یب پہنچے گی تو رجوع کر لوںگا۔اگلی دفعہ پھر ایسا کروںگا اور پھر رجوع کر لوں گا۔اس طرح نہ تجھے بساؤ ںگا اور نہ علیحدہ ہونے دو ںگا۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُس نے اس واقعہ کا آپ سے ذکر کیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ یعنی وہ طلاق جس میں مرد کو رجوع کا حق حاصل ہے صرف دو دفعہ ہے اس سے زیادہ نہیں (ترمذی کتاب الطلاق و اللعان باب نزول قولہ الطلاق مرَّتٰن) اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دو طلاقوں تک تومرد کو رجو ع کا حق حاصل رہتا ہے لیکن تیسری طلاق کے بعد اُسے رجوع کاکوئی حق نہیں رہتا۔اور یہ دوطلاقیں بھی بیک وقت نہیں دی جا سکتیں بلکہ یکے بعد دیگرے دی جاتی ہیں جس کی طرف مَرَّ تٰنِ کا لفظ اشارہ کرتا ہے جس کے معنے مَرَّۃً بَعْدَ مَرَّۃٍکے ہیں۔یعنی ایک ہی دفعہ طلاقیں نہ دی جائیں بلکہ باری باری دی جائیںاور ہر طلاق کی مدت جیسا کہ اوپر کی آیت میں گذرچکاہے تیںقروء ہے خواہ وہ ہر مہینے میں ایک طلاق دے یا شروع میں ایک دفعہ دے۔اس سے طلاق کے لحاظ سے کو ئی فرق نہیں پڑتا۔فقہاء نے ہر مہینے طلاق دینے کی طرف اس لئے توجہ دلائی ہے کہ اس طرح بار بار انسان کو رجوع کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع از کاشانی زیر عنوان کتاب الطلاق )۔میرے نزدیک خواہ انسان ایک دفعہ طلاق دے یا ہر مہینے طلاق دے وہ ایک ہی طلاق سمجھی جائےگی۔اور عدت گذرنے کے بعد پھر خاوند نکاح کرسکے گا۔اِس قسم کی طلاقیں صرف دوجائز ہیں یعنی طلاق دینا اور عدت کے بعد دوبارہ نکاح کر لینا۔اگر دو ہو جائیں تو اس کے بعد پھر اگر وہ تیسری مرتبہ طلاق دے دے تو ایسے شخص کے لئے اس عورت سے دوبارہ نکاح جائزنہیں جب تک کہ وہ باقاعدہ اور شرعی نکاح دوسرے شخص سے نہ کر چکی ہو جو حقیقی نکاح ہے حلالہ نہیں۔کیونکہ حلالہ کا وجود اسلام میں نہیں ملتا۔غرض اَلطَّلَاقُ سے مُراد وہ طلاق ہے جس کی عدت گذر چکی ہے وہ طلاق نہیں جس پر عدت نہ گذری ہو۔اس میں رجوع ہو سکتا ہے جس پر عدت گذرچکی ہو اس میں دو دفعہ نکاح ہوسکتا ہے۔تیسری دفعہ نہیں۔بیشک بعض حدیثیں اور بعض فقہا ء کے اقوال اس کے خلاف نظر آتے ہیں۔لیکن قرآن کریم کے الفاظ