تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 352

نے دو سر ی جگہ یہ بیا ن فر ما ئی ہے کہ چو نکہ مر د اپنا روپیہ عو رتوں پر خرچ کر تے ہیں اس لئے انتظا می امور میں انہیں عورتوں پرفو قیت حا صل ہے(النساء: ۳۵)۔اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ ایسی طلاق (جس میں رجوع ہو سکے )دو دفعہ (ہو سکتی) ہے۔پھر (یا تو) مناسب طور پر روک لینا ہو گا یا حسن سلوک بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ کے ساتھ رخصت کردینا ہوگا۔اور تمہارے لئے اس (مال )کا جو تم انہیں پہلے دے چکے ہو کوئی حصہ بھی (واپس) لینا شَيْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ جائز نہیںسوائے اس (صورت) کے کہ ان (دونوں )کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی( مقررہ کردہ) حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا گے۔سو اگر تمہیں( ملت اسلامیہ یا اسلام پر ایمان رکھنے والی حکو مت کو یہ) اندیشہ ہو کہ وہ( دونوں) اللہ کی افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ ( مقررکردہ) حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔تو وہ (یعنی عورت )جو کچھ بطور فدیہ دے اس کے بارہ میں ان يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۲۳۰ ( دونوں میں سےکسی )کو کوئی گناہ نہ ہو گا۔یہ اللہ کی (مقرر کردہ )حدیں ہیں اس لئے تم ان سے باہر نہ نکلو۔اور جو اللہ کی( مقرر کردہ )حدوں سے باہر نکل جائیں تو (سمجھ لو کہ) وہی لوگ (اصل )ظالم ہیں۔تفسیر۔اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ سے مرا د یہ ہے کہ ایسی طلا ق جس میں خا وند کو رجوع کا حق حا صل ہے صر ف دو دفعہ ہی ہو سکتی ہے۔یہ نہیں کہ عو رت کو تنگ کر نے کے لئے اسے بار بار طلا ق دیتا رہے۔اور جب عدت ختم ہو نے کا وقت قر یب آ ئے تو رجوع کر لے۔احکا م دینیہ کے سا تھ یہ ایک نا پا ک تمسخر ہے جس کی اسلا م ہر گز اجا زت