تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 31

میں بے اطمینانی اور اضطراب ہے وہ بھی دور ہو جائے گااور تمہاری قوم بھی اسلام میں داخل ہو جائے گی۔غرض بتایا کہ یہ تین قسم کے انعامات تمہیں ملیں گے کیونکہ وہ لوگ جو روحانیت میں اعلیٰ مقام نہیں رکھتے بالعموم پوچھا کرتے ہیں کہ اگر ہم نے فلاں کام کیا تو ہمیں کیا ملے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تین قسم کے انعامات تمہیں اس کے بدلہ میں ملیں گے۔اور پہلے گروہ کو اس گروہ کے ساتھ اس لئے شامل کر لیا گیا ہے کہ یہ انعامات انہیں بھی ملنے والے تھے۔ورنہ وہ کسی بدلہ کےلئے کام نہیں کرتے اور نہ انہیں انعامات کی کوئی لالچ ہوتی ہے۔وہ صرف اس لئے کام کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے۔پس یہ تکرار نہیں بلکہ ایک زائد مضمون بیان کرنے کے لئےاسے دُہرایا گیا ہے۔اور یہ آیت بھی اپنے اندر فتح مکہ کا ہی مضمون رکھتی ہے۔چنانچہ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ سورۃ فتح میں فتح مکہ کی جو اغراض بتائی گئی ہیں وہی اس جگہ بھی بیان کی گئی ہیں۔وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَ خَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِ یَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا (الفتح : ۲۔۳) یعنی ہم نے تجھے ایک کھلی کھلی فتح بخشی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تیرے متعلق کئے گئے وہ گناہ بھی جو پہلے گذر چکے ہیں ڈھانک دے گااور جواب تک ہوئے نہیں لیکن آئندہ ہونے کا امکان ہے اُن کو بھی ڈھانک دے گا۔اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور تجھے سیدھا راستہ دکھائے گا۔اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ فتح مکہ کی تین اغراض ہیں۔اوّل دشمن کے اعتراضوں کو دور کرنا۔جیسے فرمایا لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّ مَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاخَّرَ۔اس جگہ مِنْ ذَنْبِکَ سے اعتراضات ہی مراد ہیں۔کیونکہ کبھی غیر کے خیال کو بھی دوسرے کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں۔میرا قصور یہ ہے یعنی تمہارے خیال میں میرا قصور یہ ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ (الشعراء :۱۵) اُن کے نزدیک میں نے ایک گناہ کیا ہے۔پس لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّ مَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ کا مطلب یہ ہے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے سے دشمن جوتم پر اعتراض کیا کرتاتھا کہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ پردہ ڈال دے گا اور وہ الزام دُور ہو جائے گا۔اور صرف اسی وقت نہیں بلکہ آئندہ بھی یہ دلیل ہمیشہ تجھ پر اعتراض کرنے والوں کے منہ بند کرتی رہے گی۔فتح مکہ کی دوسری غرض اتمام نعمت بتائی ہے اور تیسری غرض یَھْدِ یَکَ صِرَ اطًا مُّسْتَقِیْمًا میں یہ بتائی کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت میں ترقی عطا فرمائے گا۔یہی تین اغراض اس جگہ بھی بیان فرمائی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ تم مکہ کو فتح کروتاکہ دشمنوں کا تم پر کوئی الزام نہ