تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 342
یہ کام نہیں کر سکتا۔تیسرے معنے یہ ہیں کہ اس ڈر سے کہ تمہیں نیکی کرنی پڑے گی خدا تعالیٰ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔اس صورت میں اَنْ تَبَرُّوْا مفعول لِاَجْلہٖ ہے اور اس سے پہلے کَرَاھَۃً مقدّر ہے۔اور مُراد یہ ہے کہ اگر اچھی باتیں نہ کرنے کی قسمیں کھاؤگے تو ان خوبیوں سے محروم ہو جاؤگے اس لئے نیکی ،تقویٰ اور اصلاح بین الناس کی خاطر اس لغو طریق سے بچتے رہو۔درحقیقت یہ سب معنے آپس میں ملتے جلتے ہیں۔صرف عربی عبارت کی مشکل کو مختلف طریق سے حل کیا گیا ہے۔جس بات پر سب مفسّرین متفق ہیں وہ یہ ہے کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نہ کرو کہ خداتعالٰے کو اپنی قسموں کا نشانہ بنالو۔یعنی اُٹھے اور قسم کھا لی۔یہ ادب کے خلاف ہے اور جو شخص اس عادت میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ بسا اوقات نیک کاموں کے بارہ میں بھی قسمیں کھا لیتا ہے کہ میں ایسا نہیں کروںگا اور اس طرح یا تو بے ادبی کا اور یانیکی سے محرومی کا شکار ہو جاتا ہے یا یہ کہ بعض اچھے کاموں کے متعلق قسمیں کھا کر خدا تعالیٰ کو ان کے لئے روک نہ بنا لو۔اِن معنوں کی صورت میں داؤ پیچ والے معنے خوب چسپا ں ہوتے ہیں۔اور مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ صدقہ و خیرات سے بچنے کے لئے چالیں چلتے ہیں اور داؤ کھیلتے ہیں اور بعض خدا تعالٰے کی قسم کو جان بچانے کا ذریعہ بتا تے ہیں۔گویا دوسرے سے بچنے اور اُسے پچھاڑنے میں جو داؤ استعمال کئے جاتے ہیں اُن میں سے ایک خدا تعالیٰ کی قسم بھی ہوتی ہے۔پس فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نام کو ایسے ذلیل حیلوں کے طورپر استعمال نہ کیا کرو۔میرے نزدیک سب سے اچھی تشریح علاّمہ ابو حیان کی ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے احسان اور نیکی وغیرہ کے آگے روک بنا کر کھڑا نہ کر دیا کرو۔وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ میں بتایا کہ اگر تمہیں نیکی اور تقویٰ اور اصلاح بین الناس کے کام میں مشکلات پیش آئیں تو خدا تعالیٰ سے ان کا دفعیہ چاہو اور ہمیشہ دُعاؤں سے کام لیتے رہو کیونکہ یہ کام دُعاؤں کے بغیر سرانجام نہیں پا سکتے۔اور پھر یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے۔اگر تم اُس کی طرف جھکو گے تو وہ اپنے علم میں سے تمہیں علم عطا فرمائے گا اور نیکی اور تقویٰ کے بارہ میں تمہارا قدم صرف پہلی سیڑھی پر نہیں رہے گا بلکہ علمِ لدنّی سے بھی تمہیں حصّہ دیا جائے گا۔