تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 341
ہیں اَلْبَعِیْرُعُرْضَۃٌلِلسَّفَرِ سفر پیش آئے تو اونٹ عُرضہ بن جاتا ہے۔مُراد یہ ہے کہ اُس کے ذریعہ سفر کی تکلیف کو دُور کیا جاتا ہے (مفردات) اِسی طرح عُرْضَۃٌ حِیْلَۃٌ فِی الْمُصَارَعَۃِ کُشتی کے داؤ پیچ کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب) اَیْمَانٌ جمع ہے اس کا مفرد یَمِیْنٌ ہے اور یَمِیْنٌ کے معنے ہیں۔(۱)دائیں جہت یا دایاں حصّہ جسم (۲) قسم (۳) برکت (۴) قوت (اقرب) اور محاورہ میں اس شے کو بھی کہتے ہیں جس کے بارہ میں قسم کھائی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبد الرحمٰن بن سمرۃؓسے فرمایا اِذَا حَلَفْتَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَأَ یْتَ غَیْرَھَاخَیْرً ا مِّنْھَا فَاْتِ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌوَکَفِّرْ عَنْ یَمِیْنِکَ یعنی جب تو کسی چیز کے بارہ میں قسم کھائے (اس کے لئے آپؐنے لفظ یَـمِیْن استعمال فرمایا)اور اس کے بعد اُس سے اچھا کام تجھے سُوجھ جائے تو تُو وہ کام جو بہتر ہے اختیار کر اور اپنی قسم کاکفارہ دے دے۔(الکشاف) تفسیر۔فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔یعنی جس طرح ایک شخص نشانہ پر بار بار تیر مارتا ہے اسی طرح تم بار بار خدا تعالیٰ کی قسمیں نہ کھا یا کرو۔کہ ہم یوں کر دیںگے اور ووں کر دیںگے۔اَنْ تَبَرُّوْاوَتَتَّقُوْاوَتُصْلِحُوْابَیْنَ النَّاسِ یہ ایک نیا اور الگ فقرہ ہے۔جو مبتداء ہے خبرمحذوف کا۔اور خبر مخدوف اَمْثَلُ وَاَوْلٰی ہے۔یعنی بِرُّکُمْ وَ تَقْوَاکُمْ وَاِصْلَاحُکُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَمْثَلُ وَاَوْلٰی اِ س کے معنے یہ ہیں کہ تمہا را نیکی اور تقویٰ اختیا رکر نا اور اصلا ح بین النا س کرنا زیا دہ اچھا ہے۔صر ف قسمیں کھا تے رہنا کہ ہم ایسا کر دیںگے کو ئی درست طر یق نہیں۔تمہیں چاہیے کہ قسمیں کھا نے کی بجا ئے کا م کر کے دکھا ؤ۔پہلے قسمیں کھانے کی کیا ضرورت ہے؟ زجاؔ ج جو مشہور نحو ی اور ادیب گذرے ہیں انہو ں نے یہی معنے کئے ہیں۔(بحر محیط زیر آیت ھٰذا)۔دو سر ے معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعا لیٰ کو روک نہ بنا ؤ اُن چیزوں کے لئے جن پر تم قسم کھا تے ہو۔یعنی بِرّ کر نا تقویٰ کر نا اور اصلا ح بین الناس کر نا۔اِس صو رت میں یہ تینو ں اَیْمَان کا عطفِ بیا ن ہیں اور اَیْمَان کے معنے قسمو ں کے نہیں بلکہ اُ ن چیزو ں کے ہیں جن پر قسم کھائی جا تی ہے۔مطلب یہ کہ اپنا پیچھا چھڑا نے کے لئے نیک کا م کی قسم نہ کھا لیا کرو۔تا کہ یہ کہہ سکو کہ کیا کروں چو نکہ میں قسم کھا چکا ہو ں۔اس لئے نہیں کر سکتا۔مثلاً کسی ضر ورت مند نے روپیہ ما نگا تو کہہ دیا کہ میںنے تو قسم کھا لی ہے کہ آئندہ میں کسی کو قر ض نہیں دوں گا۔علّامہ ابو حیّا ن کہتے ہیں کہ اس فقرہ کو ایْمَان کا عطفِ بیا ن بنا نے کی بجا ئے بدل بنا نا اچھا ہے۔کیو نکہ عطفِ بیان اکثر اَعْلَامْ (یعنی کسی چیز کا معیّن نام) ہوتے ہیں(بحر محیط زیر آیت ھٰذا)۔بہرحال دونوں صورتوںمیں اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر کوئی نیکی اور تقویٰ اور اصلاح بین الناس کے کام کےلئے تمہیںکہے تو تم یہ نہ کہوکہ میں نے تو قسم کھائی ہوئی ہے مَیں