تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 30
جھوٹے مذہب والا آدمی فتح نہیں کر سکتا اور اگر کوئی کوشش کرے گاتو تباہ ہو جائے گا اور اس کی تائید میں اُن کے سامنے ایک تازہ واقعہ بھی تھا۔اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیدائش سے پہلے یمن کے گورنر ابرہہ نے مکہ فتح کرنے کی کوشش کی۔لیکن باوجود ایک کثیر فوج اپنے ساتھ رکھنے کے ناکام رہا۔اور آخر اس کی فوج میں ایسی وبا پھیلی کہ تمام فوج تباہ ہو گئی اور وہ ناکامی اور نامرادی کی حالت میں واپس چلا گیا (السیرة النبویة لابن ہشام أمر الفیل و قصة النساء)۔غرض عرب کے رہنے والے چونکہ قریب کے زمانہ میں اس بات کا تجربہ کر چکے تھے کہ بیت اللہ کی اللہ تعالیٰ حفاظت کر رہا ہے اور کوئی شخص اسے بزور فتح نہیں کر سکتا۔اس لئے جب آپ نے مکہ والوں کو مغلوب کر لیا تو اس کامیابی نے انہیں یقین دلادیا کہ یہ شخص سچا ہے اور اس کا مذہب بھی سچا ہے اور وہ جوق درجوق آپ پر ایمان لے آئے۔بخاری کی ایک حدیث جو حضرت عمر وبن سلمہ سے مروی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لوگ فتح مکہ کے منتظر تھے۔چنانچہ لکھا ہے کَانَتِ الْعَرَبُ تُلَوِّ مُ بِاِ سْلَا مِھِمُ الْفَتْحَ فَیَقُوْلُوْنَ اُتْرُکُوْہُ وَقَوْمَہٗ فَاِنَّہٗ اِنْ ظَھَرَ عَلَیْھِمْ فَھُوَ نَبِیٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا کَانَتْ وَقْعَۃُ اَھْلِ الْفَتْحِ بَادَرَ کُلُّ قَوْمٍ بِاِسْلَامِھِمْ (بخاری کتاب المغازی باب مقام النبیؐ بمکة زمن الفتح ) یعنی عرب لوگ فتح مکہ کا انتظار کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اے لوگو ! اس نبی اور اس کی قوم کو چھوڑ دو۔اگر یہ نبی دوسروں پر غالب آگیا تو پھر یہ ضرور سچا ہے۔چنانچہ جب مکہ فتح ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم پر غالب آگئے تو ہر قوم نے دوڑتے ہوئے اسلام کو قبول کر لیا اور وفود در وفود لوگ بیعت میں داخل ہوگئے۔لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔کہ تمہاری قوم کا اسلام لانا فتح مکہ کے ساتھ وابستہ ہے جب مکہ فتح ہو گیا تو تمہاری ساری قوم اسلام میں داخل ہو جائے گی۔پھر جیسا کہ اوپربتایا جا چکا ہےلَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ تھا کہ فتح مکہ کے نتیجہ میں تمہیں اپنے رشتہ دار اور دوست سب مل جائیں گے اور آپس کی لڑائیاں اور تفرقہ دور ہو جائے گا۔گویا تین قسم کے انعامات تم پر نازل ہو ںگے۔اوّل۔لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ۔تمہیں فتح مکہ کے بعد ذہنی طور پر اطمینان حاصل ہو جائے گا۔اور دشمن کا مونہہ ہر قسم کے اعتراضات سے بند ہو جائے گا۔دوم۔وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ۔یہ مادی انعام ہے کہ تمہیں حکومت مل جائے گی۔بادشاہت تمہارے ہاتھ میں آ جائے گی۔اور اسلام مستحکم طور پر پہلے عرب اور پھر عرب سے نکل کر ساری دنیا میں قائم ہو جائے گا۔سوم۔لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ۔اس میں قلبی انعام کا ذکر کیا کہ رشتہ داروں کی جدائی کی وجہ سے جو تمہارے دلوں