تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 29

بھی فتح مکہ کی اغراض میں سے تھا۔چنانچہ جو نہی مکہ فتح ہوا۔تمام عرب سے وفود آنے شروع ہوگئے۔اور صلح کا ہاتھ بڑھانے لگے (بخاری کتاب المغازی باب مقام النبیؐ بمکة زمن الفتح)۔آخر اِسی فتح کے نتیجہ میں سارا عرب مسلمان ہو گیا۔اور پھر عربوں نے ایک قلیل ترین مدت میں ساری دنیا میں اسلام پھیلادیا۔اور وہ نعمت اسلام جو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کےلئے نازل فرمائی تھی دنیا میں مستحکم طور پر قائم ہو گئی۔پھر فرمایا۔وَلَعَلَّـکُمْ تَھْتَدُوْنَ۔فتح مکہ کا ایک فائدہ تمہیں یہ بھی ہو گا کہ تم ہدایت پاجاؤگے۔یعنی تمہاری قوم داخل اسلام ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ اس کےلئے ہدایت کے دروازے کھول دے گا۔ورنہ بلحاظ افراد تو فتح مکہ سے پہلے ہی کئی لوگ ایمان لا چکے تھے۔مگر باقی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ اگر اس نبی نے مکہ فتح کر لیاتو یہ اور اس کا مذہب سچا ہے اور اگر یہ مکہ فتح نہ کر سکا تو جھوٹا ہو گا(بخاری کتاب المغازی باب مقام النبیؐ بمکة زمن الفتح)۔چنانچہ جب فتح مکہ ہوئی تو عرب کی تمام اقوام سمجھ گئیں کہ اسلام سچا مذہب ہے اور اسلام قبول کرنے کے لئے دُور دُور سے وفود آنے شروع ہوگئے۔حتّٰی کہ اشد ترین دشمنوں میں سے بھی بعض فتح مکہ کے بعد بیعت میں داخل ہو گئے اِس کی بیّن مثال ہمارے سامنے ہندہ کی ہے جو فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کے شدید ترین دشمنوں میں سے تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کو سزا کے طور پر قتل کرنے کا حکم دیا تھا اُن میں وہ بھی شامل تھی۔مگر وہ بڑی ہوشیار عورت تھی۔گھر میں چھپ کر بیٹھ گئی اور باہر نہ نکلی۔جب عورتوں کی بیعت ہونے لگی تو چونکہ اس وقت تک پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔اس لئے اُس نے بھی چادر اوڑھ لی اور اُن کے ساتھ شامل ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے لئے آگئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم نہ تھا کہ اِن عورتوں میں ہندہ بھی موجود ہے۔آپ نے بیعت لیتے وقت یہ فقرہ فرمایا کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی۔اس پر ہندہ جھٹ بول اٹھی کہ یا رسول اللہ !کیا اب بھی ہم شرک کر سکتی ہیں؟ آپ اکیلے تھے اور مقابل پر آپ کی ساری قوم اور تمام عرب مع اپنے بتوں کے تھے جن سے وہ بزعم خود مدد لیتے تھے۔لیکن آپ نے اکیلے ہونے کے باوجود اپنے ایک معبود کی مدد سے مکہ فتح کر لیا۔اب کیسے ممکن ہے کہ ہم شرک کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کیا ہندہ ہے؟ ہندہ فوراً بول اٹھی کہ یا رسول اللہ ! اب آپ کچھ نہیں کر سکتے۔اب میں آپ کی بیعت کر چکی ہوں (السیرة الحلبیة الجزء الثالث فتح مکّة شرفھا اللہ تعالٰی)۔غرض فتح مکہ ایک ایسانشان تھا کہ جس کو دیکھتے ہوئے ہندہ جیسی شدید دشمن عورت نے بھی سمجھ لیا کہ اب سچائی بالکل عیاں ہو گئی ہے۔دوسری وجہ اقوام عرب کے اسلام قبول کرنے کی یہ تھی کہ عرب کے لوگوں کو اس بات کا یقین تھا کہ مکہ کو کوئی