تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 329
اصلاح کو مدنظر رکھو اور درمیانی راہ اختیار کرو۔قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ یتامیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو ان کی طرف توجہ نہیں کرتے انہیں یہ تو سوچنا چاہیے کہ کیا یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ خود مر جائیں اور اپنے بچوں کو یتیم چھوڑ جائیں؟(النّساء: ۱۰) اس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یتامیٰ کی پرورش اور ان کی نگہداشت ایک اہم ترین فرض ہے لوگ اگر مرنے سے ڈرتے ہیں تو محض اس وجہ سے کہ وہ دیکھتے ہیں فلاں شخص مر گیا اور اس کے بچے دربدر بھیک مانگتے پھر رہے ہیں یا ان بچوں کو کسی نے ملازم رکھ لیا ہے تو وہ بات بات پر ان کو بوٹ سے ٹھوکریں مارتا اور ان کے مونہہ پر تھپڑ رسید کرتا ہے وہ روتے ہیں چیختے ہیں چلاتے ہیں مگر ان کی آہ وزاری اس کے دل پر کوئی اثر نہیں کرتی۔یہ حالات دیکھ کر وہ بھی موت سے گھبراتا ہے اورسمجھتا ہے کہ اگر میں مر گیا تو میرے بچوں کے ساتھ بھی لوگ ایسا ہی سلوک کریںگے۔لیکن اگر قومی کیریکٹر ایسا اعلیٰ درجہ کا بن جائے کہ جب کوئی شخص مرے تو اس کے بچوں کے متعلق ساری قوم میں ایک زبردست جذبہ اخوت پیدا ہو جائے اور ہر شخص کہے کہ ان بچوں کو میرے سپرد کیا جائے میں اپنے بچوں کی طرح ان کی پرورش کروں گا تو موت کا ڈر ہر شخص کے دل سے نکل جائے اور وہ سمجھنے لگ جائے کہ اگر میں مر گیا تب بھی میری قوم کے افراد ایسے اچھے ہیں کہ وہ میرے بچوں کی میری طرح ہی خبر گیری کریں گے اور انہیں تھپڑوں اور بوٹ کی ٹھوکروں کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔پس یتامیٰ کی خبر گیری اور بیوائوں سے حسنِ سلوک یہ دو ایسی چیزیں ہیں جو قوم میں جرأت اور بہادری پیدا کردیتی ہیں۔اگر یہ چیز قوم میں موجود نہ ہو بلکہ اس کے برعکس اس کے افراد کا نمونہ یہ ہو کہ وہ یتامیٰ تو رکھتے ہوں مگر ملازم بنا کر بلکہ ملازموں سے بھی بدترحالت میں اور وہ ذرا ذرا سی بات پر ان کو تھپڑ مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہوں تو کون شخص ہے جس کا مرنے کو دل چاہے گا؟ ہر شخص ڈرے گا ہرشخص موت سے گھبرائے گااور سمجھے گا کہ میری موت میرے بچوں کی موت ہے۔میر ی موت میری بیوی کی موت ہے۔میں مروں تو کس طرح اور جان دوں تو کیوں ؟پس ضروری ہے کہ ساری قوم کا یہ کیریکٹر بن جائے کہ جب کوئی شخص فوت ہو تو یہ سوال نہ ہو کہ کون اس کے بچوں کی پرورش کرےگا بلکہ لوگ خود دوڑتے ہوئے جائیں اور ان بچوں کو اپنے سینہ سے لگاتے ہوئے اپنے گھروں میں لے آئیں اورا پنے بچوں کی طرح بلکہ اپنے بچوں سے بھی بڑھ کر ان سے محبت اور پیار اور نرمی اور شفقت کا سلوک کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا واقعہ ہے ایک بچہ یتیم رہ گیا تو بعض صحابہؓ میں آپس میں لڑائی شروع ہو گئی ایک کہتا میں اس کی پرورش کروں گا۔دوسراکہتا ہے میںاس کی پرورش کروں گا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ بچہ سامنے کرو او ر وہ جس کو پسند کرے اس کے سپر د کر دو۔مگر آج یہ