تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 326

سکتا۔عقلاً بھی یہ خیال بالکل باطل ہے کیونکہ جب تک ایک جماعت ایسے لوگوں کی نہ ہو جو مال دار ہوں عام ملکی ترقی نہیں ہو سکتی اور غرباء کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض روحانی لوگ اپنے اموال کو حتی الوسع غرباء کی خدمت میں خرچ کرتے ہیں اور اسے اسلام نے منع نہیں کیا بلکہ پسند کیا ہے مگر یہ بات غلط ہے کہ اسلام نے اس امر کا حکم دیا ہے کہ دنیا میں مالی مساوات قائم کی جائے۔اور ضرورت سے زیادہ مال لوگ لازماً خرچ کر دیا کریں۔اگر یہ اصل تسلیم کیا جائے تو یہ اصل بھی مقرر کرنا پڑے گا کہ ضرور ت سے مراد عام حالتِ ملکی کے مطابق اخراجات ہوںگے ورنہ اگر اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ ہر شخص اپنی ضرورت کا خود فیصلہ کرے تو پھر بھی مساوات نہیں رہے گی۔کوئی شخص اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور عمدہ سے عمدہ کپڑوں اور وسیع اور کھلے اور آراستہ و پیراستہ مکانوں اور خوشنما چمنوں اور میوہ دار باغوں کے لئے روپیہ رکھ کر باقی اگر بچے گا تو غربا ء میں بانٹ دے گا۔اور غریب بیچارے معمولی لباس پہننے اور جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہوں گے۔اصل بات یہ ہے کہ اسلام کے احکام کے مطابق ہر مسلمان حکومت کا یہ فرض ہے کہ اس کے ملک کے باشندے فاقہ سے نہ رہیں اور ان کے قابلِ ستر مقامات کے لئے کپڑا مہیّا کیا کرے۔گویا انسانی زندگی کی پوری طرح حفاظت کر ے۔اس کے لئے وہ امراء سے شریعت کے حکم کے مطابق مال لے کر غرباء پر خرچ کرتی ہے اس سے زیادہ جو کچھ خرچ کیا جائے وہ امراء کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔ہاں! اگر زکوٰۃ دینے کے بعد بھی کوئی شخص فاقہ سے مرتا ہوا کسی کو نظر آئے تو اس کا فرض ہے کہ اس کی جان بچانےکی پوری کوشش کرے۔اس دعویٰ کا ثبوت اس حدیث سے ملتا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اسلام کیا ہے۔آپؐ نے اسے اسلام کے اصولی احکام بتائے۔اور ان میں زکوٰۃ کا مسئلہ بھی بیان فرمایا۔یہ سب کچھ سن کر اس شخص نے کہا کہ میں اس سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر اس نے اس قول کو پورا کر دیا تو یہ کامیاب ہو گیا(بخاری کتاب الایمان باب الزکٰوة من الاسلام )۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غرباء کی مدد کے لئے زکوٰۃ سے زیادہ دینا کسی پر فرض نہیں۔ہاں اگر کوئی زیادہ دے تو یہ اس کی نیکی ہے۔دراصل اس آیت میں تین قسم کے لوگوں کے لئے تین مختلف احکام دیئے گے ہیں۔اور یہ تینوں احکام عفو کے لفظ کے اندر شامل ہیں۔پہلا حکم جو ادنیٰ درجہ کا ایمان رکھنے والوں کے لئے ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اس قدر خرچ کرو کہ بعد میں تمہارے ایمان میں کوئی تزلزل واقع نہ ہو اور تمہارےدین اور ایمان کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ہم نے دیکھاہے بعض لوگ جوش میں آکر بہت سا روپیہ دینی ضروریات کے لئے صرف کر دیتے ہیں لیکن بعد میں جب انہیں مالی مشکلات محسوس ہوتی ہیں تو اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دی ہے