تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 322

دینے والی ہے اکیلی منڈی بنا ہوا تھا۔یہ ملک تھا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مبعوث ہوئے اور یہ قوم تھی جس سے شراب چھڑانے کا انہوں نے ارادہ کیا۔اس ارادہ کے پورا کرنے کےلئے انہوں نے کیا تدابیر اختیار کیں۔اور ان کا کیا نتیجہ نکلا؟ یہ ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ ہے جس پر تمام عقلیں دنگ ہیں اور کل دانا انگشت بدنداں۔اس شراب کے نشہ میں مخمور رہنے والی قوم اور شراب کو اپنا ایک ہی دل لگی کا ذریعہ سمجھنے والی جماعت میں ایک دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلتے ہیں۔اور مختصر اور صاف لفظوں میں خدا تعالیٰ کا یہ حکم سنا دیتے ہیں کہ شراب کے نقصانات چونکہ اس کے نفع سے زیادہ ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے لئے اس کو حرام کر دیا ہے پس ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پرہیز کرے اور اس کا بنانا۔بیچنا۔پینا اور پلانا ترک کر دے۔اور اس حکم کو سن کر وہ شراب کے شیدائی اپنا سر نیچا کر لیتے ہیں۔اور ایک شخص کے منہ سے بھی اس کے خلاف آواز نہیں نکلتی۔ہر ایک ان میں سے شرح صدر سے اس حکم کو قبول کر لیتا ہے اور اس وقت کے بعد شراب کا گلاس کسی ایک فرد کے منہ کے قریب بھی نہیں جاتا۔وہ لوگ مہلت نہیں مانگتے قلّت و کثرت کا سوال نہیں اٹھاتے کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جس چیز کی زیادتی حرام ہے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ان میں لیکچروں کی ضرورت پیش نہیں آتی۔شراب کی بُرائیاں ذہن نشین کرنے کی حاجت نہیں ہوتی۔کیونکہ اسلام نے ان کے ذہنوں کو ایسی جلا دے دی تھی کہ حق بات کی طرف توجہ دلانا ان کے لئے کافی ہوتا تھا۔اور تعصب اور خودبینی سے ان کو اس قدر دور کر دیا تھا کہ اپنی غلطیاں خودبخود ان کی آنکھوں کے سامنے آجاتی تھیں۔پس کسی لیکچرار کے لیکچر یا میجک لنٹرن کی تصاویر کی ان کو ضرورت نہ تھی۔ان کے لئے صرف ایک اشارہ کافی تھا۔ایک لفظ بس تھا۔اور سب معاملہ آپ ہی آپ ان کے لئے واضح ہو گیا۔ان کا اپنا نفس ان کے لئے لیکچرار تھا اور گوشہ ہائے دماغ میجک لنٹرن کے پردے جن پر وہ عقل کی آنکھوں کے ساتھ خوب اچھی طرح ان بدمستیوں کے نظاروں کو دیکھ سکتے تھے جو شراب نوشی کے نتیجہ میں ظاہر ہوتے ہیں وہ جھوٹی تصویروں کے محتاج نہ تھے سچا نقشہ ان کی رہنمائی کے لئے کافی تھا۔اسلام کے اس دوحرفہ حکم کا جو اثر شراب نوشی پر ہوا اس کی بہترین مثال ذیل کا واقعہ ہے جو مسلم۔مسند احمد بن حنبل اور ابن جریر کی روایات سے ماخوذ ہے۔حضرت انس ؓ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں سے تھے اور مدینہ کے رہنے والے تھے۔بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن ابوطلحہ کے مکان پر مجلس شراب لگی ہوئی تھی اور بہت سے دوست جمع تھے۔میں شراب پلا رہاتھا۔دور پر دور چل رہا تھا اور نشہ کی وجہ سے ان کے سر جھکنے لگے تھے کہ اتنے میں گلی میں کسی نے آواز دی