تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 321

ہے۔یعنی میں اس قدر شراب پینے والا ہوں کہ مرنے کے بعد بھی نشہ میں ہی اٹھوں گا۔طرفہؔ کی یہ باتیں باتیں ہی نہیں ہیںبلکہ وہ اس پر عمل پیرا بھی تھا۔چنانچہ عرب کے بادشاہ عمر و بن ہند نے جب اس کے بعض اشعار پر جو اس نے بادشاہ کی ہجو میں کہے تھے ناراض ہو کر عین اس کے عنفو انِ شباب میں اس کے قتل کا حکم اپنے والئی بحران کو لکھا اور اس نے طرفہؔ سے دریافت کیا کہ وہ اپنے لئے بہترین طریقہ موت کا چُنے۔تو اس نے یہ پسند کیا کہ اس کے پاس بہت سی شراب رکھ دی جائے اور اسی کو پیتے وقت اس کی رگوں کا خون نکال کر اسے قتل کر دیا جائے۔اسی طرح عرب کا ایک شاعر ابو محجن ثقفی اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہتا ہے ؎ اِذَا مِتُّ فَادْفِنِّـیْ اِلٰی اَصْلِ کَرْمَۃٍ تُرَوِّیْ عِظَامِیْ بَعْدَ مَوْتِیْ عُرُوْ قُھَا وَلَا تُدْ فِنِّیْ فِی الْفَلَاۃِ فَاِنَّنِیْ اَخَافُ اِذَا مَامِتُّ اَنْ لَّا اَذُوْقَھَا یعنی جب میں مر جائوں تو مجھے انگور کے درختوں کے پاس دفن کیجئیو تاکہ اس کی جڑیں میری ہڈیوں کو سیراب کرتی رہیں اور مجھے جنگل میں دفن نہ کیجیئو۔تا ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد میں شراب سے محروم رہ جائوں۔(کتاب الشعر و الشعراء لا بن قتیبۃ) شعراء کے کلام کے علاوہ لغتِ عرب بھی عرب کے شراب پر شیدائی ہونے پر دلالت کرتی ہے۔عربی زبان میں شراب کے نام اس کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔اور کسی زبان میں اس کی مثال نہیں ملتی۔تمدن عرب بھی اس بات کا شاہد ہے کہ عرب شراب نوشی میں نہ صرف کامل تھا بلکہ باقی تمام دنیا سے بڑھا ہوا تھا۔کیونکہ عرب میں شراب کشید کرنے کا طریق بہت قدیم زمانہ میں دریافت کر لیا گیا تھا۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹنیکا میں لکھا ہے۔’’معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانہ کے لوگوں کو شراب کے کشید کرنے کا طریق معلوم تھا اور تاریکی کے زمانوں میں عرب لوگ شراب کے کشید کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔‘‘ (انسائیکلوپیڈیابرٹنیکا زیر لفظ (wine اس تاریخی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب قدیم زمانہ میں شراب بنانے اور اس کے استعمال کرنے میں سب سے آگے تھے۔بلکہ وہ دنیا کے لئے کشید کردہ شراب کی جو خمیر سے تیار کردہ شراب سے زیادہ سخت اور زیادہ عادی بنا