تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 317
ایسے ہی اثرات کے معلوم کرنے کی طرف پھرتی ہے۔پس اس حکم کی اہمیت اور خوبی اسی وقت پورے طور پر منکشف ہو سکتی تھی جبکہ اس کے جسمانی اثرات کی مضرتیں بھی روز روشن کی طرح ثابت ہوں اور پھر اس کے نفع سے زیادہ ثابت ہوں۔اس اظہار ِ حقیقت کا بھی آخر وقت آگیا اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو بعض ایسی ایجادوں کی توفیق دی جن کے ذریعہ سے انسان نہایت باریک اعصاب اور ریشوں پر مختلف ادویات اور اغذیہ اور تغیرات موسم اور احساسات کا جو اثر ہوسکتا ہے اسے معلوم کرنے کے قابل ہو گیا۔ان ایجادوں نے جہاں اور عظیم الشان تغیرات پیدا کئے وہاں شراب کے متعلق بھی قدیم علمی تحقیقات کی غلطی کو ثابت کر دیا اور اکثر علماء طب کو اس بات کا اقرار کرنا پڑا کہ اس کے ضرر اس کے نفعوں سے زیادہ ہیں اس قدیم اور مستحکم خیال کے بدل دینے کا فخر علم النفس کے ایک ماہر کرپلن کو حاصل ہے جس نے اپنے بعض ہم خیالوںکی مدد سے کوشش کر کے اس امر کو ثابت کر دیا کہ شراب کی چھوٹی سے چھوٹی مقدار کے ایک ہی دفعہ کے استعمال سے بھی انسانی دماغ کے باریک ریشوں اور اعلیٰ درجہ کے علمی مرکزوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح ہاجؔ نے بھی الکوحل کے اس اثر کے متعلق تجربات کئے جو پٹھوں پر پڑتا ہے۔اور وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ شراب کے استعمال سے برداشت اور ذکاوت اور صبر کی قوتوں کو نہایت سخت نقصان پہنچتا ہے۔مسٹر الیگزینڈر برائس ایم۔ڈی۔ڈی۔پی۔ایچ جو ماہر علم الاغذیہ ہیں شراب کے متعلق اپنی تحقیقات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔’’ اس میں کچھ شبہ اب باقی نہیں رہا کہ شراب درحقیقت ایک نہات سخت زہر ہے جو باریک ریشوں کو تباہ کر دیتا ہے پہلے تو یہ اپنا خواب آور اثر ظاہر کرتا ہے اور آہستہ آہستہ تحلیل کرنا شروع کر دیتا ہے۔خصوصاً اعصاب کو سخت نقصان پہنچاتا ہے۔درحقیقت اس کا حق نہیں کہ اسے مقوی ادویہ میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ صرف ایک ایسی دوائی ہے جو ایک عارضی تحریک کر دیتی ہے مگر اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک ضعف رہتا ہے۔قریباً تمام سمجھدار ڈاکٹروں کی رائے اب یہی ہو گئی ہے کہ صحت میں اس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔اور اگر بیماری کے علاج میں اس کا فائدہ بالکل مشتبہ نہ سمجھا جائے تو بھی یہ بات تو متحقق ہے کہ یہ اس قابل ہے کہ اس کی جگہ عموماً دوسری ایسی دوائیں استعمال کی جائیں جو اس سے کم ضرر رساں ہیں۔‘‘ ان انکشافات کا اثر لازمی طور پر علم طب پر پڑنا تھا اور پڑا۔چنانچہ۱۹۰۰ء سے برابر علم طب کے ماہروں کی توجہ اس طرف پھرنی شروع ہو گئی کہ شراب کے استعمال کو کم کیا جائے۔چنانچہ ایڈنبرگ کے ایک ہسپتال میں جہاں