تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 28
مصداق ہے؟ (۴)اگر مکہ فتح نہ ہوتا تو لوگ اعتراض کرسکتے تھے کہ اس نبی کی غرض تو توحید پھیلانا تھی مگر خانہ کعبہ میں تو تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے ہیں(بخاری کتاب المغازی باب این رکز النبی الرأیة یوم الفتح) پھر یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوئی کہ وہ اس گھر کو پاک کرے گا؟ (۵) اگر مکہ فتح نہ ہوتاتو یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (البقرة:۱۳۰) والی پیشگوئی کے پورا نہ ہونے پر بھی اعتراض ہوتا اور کہا جاتا کہ اس رسول نے تو مکہ کے لوگوں کی اصلاح کرنی تھی پھریہ پیشگوئی کسی طرح پوری ہوئی؟غرض اگر فتح مکہ یا اصلاحِ مکہ نہ ہوتی تو دشمن کے لئے کئی قسم کے اعتراضات کا موقعہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہ حکم دے دیا کہ تم مکہ فتح کرو۔اور یہ خیال رکھو کہ وہاں کوئی خرابی پیدا نہ ہو ورنہ دشمن کے ہاتھ میں ایسی دلیل آجائے گی جس کا تم کوئی جواب نہیں دے سکو گے۔ہاں اگر تم مکہ فتح کر لو تو پھر اُس کا منہ بند ہو جائے گا اور وہ تم پر کوئی اعتراض نہیں کر سکے گا۔اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ۔یہ استثناء متصل بھی ہو سکتا ہے اور منقطع بھی۔اگر متصل مانا جائے تو اِس کے معنے یہ ہوں گے کہ تم مکہ کو فتح کرو تاکہ لوگوں کی طرف سے تم پر کوئی الزام نہ رہے سوائے اُن لوگوں کے جو ظالم ہیںیعنی وہ لوگ تو پھر بھی شرارتوں میں حصہ لیتے رہیں گے۔اور باتیں بناتے رہیں گے مگر ان کی وہ باتیں قابل اعتناء نہیں ہوں گی۔اور اگر حجت کے معنے غلبہ کے کئے جائیں تو پھر یہ استثناء منقطع ہو گا۔اور اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جو لوگ اِن میں سے ظالم ہوں تم اُن سے مت ڈرو بلکہ صرف مجھ سے ہی ڈرو کیونکہ تمہارے غلبہ کی وجہ سے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔(ج) عربی زبان میں اِلَّا کے معنے وَلٰکِنْ کے بھی ہوتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں۔مَالَکَ عَلَیَّ حُجَّۃٌ اِلَّا اَنْ تَظْلِمَنِیْ یعنی تجھے میرے خلاف کسی قسم کی کوئی حجت حاصل نہیں ہاں اگر تو مجھ پر ظلم کرے تو یہ علیحدہ بات ہے۔اس لحاظ سے اِس کے معنے یوں ہوں گے کہ فتح مکہ کے بعد لوگوں کے ہاتھ میں کوئی حجت تو نہیں رہے گی لیکن اگر وہ پھر بھی اعتراض کریں گے تو ظلماًہی کریں گے ورنہ اس میں کوئی معقولیت نہیں ہو گی۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے۔اِلَّا واؤ عاطفہ کے معنے بھی دیتا ہے اور مابعد کو پہلے کے ساتھ شریک کرتا ہے اس لحاظ سے اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وَلَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْامِنْھُمْ۔یعنی فتح مکہ کے ذریعہ مخالفین اسلام پر ایسی حجت ہوجائے گی کہ ظالموں کے منہ بھی بند ہو جائیں گے اور وہ بھی کوئی اعتراض نہیں کر سکیں گے۔وَلِاُ تِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ۔فرماتا ہے یہ حکم میں نے اس غرض کےلئے بھی دیا ہے تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں۔اس جگہ نعمت سے مراد اسلام ہے اور اُس کے اتمام سے مراد اُسے مستحکم طور پر قائم کر دینا ہے یہ پروگرام