تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 306
کہتے ہیں۔جو عقل کو ڈھانپ دیتی ہے۔اَلْمَیْسِرُ یَسَرَسے مَفْعِلٌ کا صیغہ ہے اور اَلْمَیْسِرُ کے معنے ہیں اَللَّعْبُ بِالْقَدَاحِ (۱)تیروں سے جُوا کھیلنا۔(اَوْھُوَ النَّرْدُ اَوْکُلُّ قِمَارٍ) اَوْ ھُوَ الْجُزُوْرُ الَّتِیْ کَانُوْا یَتَقَا مَرُوْنَ عَلَیْھَا (اقرب) (۲) نَرد یعنی شطرنج اور چوپٹ کو بھی میسر کہتے ہیں (۳) ہر قسم کا جُوا بھی میسر کہلاتا ہے۔(۴)مَیسر ان اونٹوں کو بھی کہتے ہیں جن پر لاٹری ڈالتے تھے۔اَلْاِثْمُ اَلْاَفْعَالُ الْمُبْطِئَۃُ عَنِ الْخَیْرِ(اقرب)۔وہ کام جو نیکیوں سے روک دیں ان کو اِثْمٌ کہتے ہیں (۲) اِثْمٌ کا لفظ کبھی سزا اور تکلیف اور دکھ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یعنی اپنے نتیجہ کے اعتبار سے تکلیف وغیرہ کے معنے دیتا ہے۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ کبھی سبب کو مسبّب کی جگہ استعمال کر لیتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اسے دوسری جگہ ان معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا يَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا (الفرقان: ۲۹) اس جگہ یَلْقَ اَثَامًا کے یہ معنے ہیں کہ جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزا پائے گا۔اَلْعَفْوَ خِیَارُ الشَّیْءِ وَاَطْیَبُہٗ بہتر سے بہتر اور پاک سے پاک چیز (۲) مَایَفْضُلُ عَنِ النَّفَقَۃِ وَلَا عَسَرَ عَلٰی صَاحِبِہٖ فِیْ اِعْطَا ئِہٖ۔جو کسی کے خرچ سے بچ رہے اور دینے والے کو اس کے دینے میں تنگی محسوس نہ ہو۔(۳) عَفْوُ الْمَالِ۔وہ مال جو بغیر سوال کے دیا جائے۔کہتے ہیں اَعْطَیْتُہٗ عَفْوًا یا اَعْطَیْتُہٗ عَفْوَ الْمَالِ۔میں نے اُسے بغیر مانگے دیا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے کہ لوگ تجھ سے شراب اور جُوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ جائز ہیں یا ناجائز؟ تُو ان سے کہہ دے کہ شراب اور جوئے میں کچھ خرابیاں ہیں اور کچھ فوائد لیکن خرابیاں فوائد کی نسبت زیادہ ہیں۔یہ کیا ہی لطیف جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے! ان کے سوال پر انہیں فوری طور پر منع نہیں کیا کہ تم شراب نہ پیو اور جُوا نہ کھیلو۔بلکہ فرمایا کہ ان میں فوائد تھوڑےہیں اور نقصانات زیاد ہ۔اب تم خود سوچ لو کہ تمہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس جواب میں اصولی طور پر خداتعا لیٰ نے ہمارے لئے یہ قاعدہ بیان فرما دیا ہے کہ اگر کسی کام میں فائد ہ زیادہ ہو اور نقصان کم تو اسے اختیار کر لیا کرو۔اور اگر نقصان زیادہ ہو اور فائدہ کم تو اسے کبھی اختیار نہ کرو۔بالخصوص ایسا کام تو کبھی اختیار نہ کرو جس میں اِثْمٌ کَبِیْرٌ ہو۔اِثْمٌ کے معنے گناہ کے بھی ہیں اور اِثْمٌکے معنے نیکیوں سے محرومی کے بھی ہیں۔گویا انسان کو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس کے نتیجہ میں اسے گناہ ہو۔یا جس کے نتیجہ میں وہ نیکیوں سے محروم