تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 307
ہو جائے۔خواہ اس میں بظاہر کچھ فوائد بھی دکھائی دیتے ہوں۔پھر مَنَافِعُ لِلنَّاسِ فرما کر اسلام نے ہمیں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ خواہ تمہاری نگاہ میں کوئی چیز کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو۔تمہارا فرض ہے کہ تم اس کی خوبیوں سے کلی طور پر انکار نہ کرو۔جب شراب اور جُوئے جیسی چیزیں بھی فوائد سے خالی نہیں تو دوسری ضرر رساں چیزوں کو تم فوائد سے خالی کیوں سمجھتے ہو۔بے شک تمہارا فرض ہے کہ تم ان کے ضر ر سے بچو۔اور آئندہ نسلوں کو بچائو لیکن تمہاری بینائی ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسی چیز کا صرف تاریک پہلو ہی دیکھے بلکہ ہر چیز کا تاریک اور روشن دونوں پہلو سامنے رہنے چاہئیں اور حسن کا اقرار کرنے میں تمہیں کبھی بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمان اس بارہ میں خود آآکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سوال کیا کرتے تھے حالانکہ عرب کے رہنے والے شراب پینے کے اس قدر عادی تھے کہ وہ اس پر فخر کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک عرب شاعر کہتا ہے ؎ اَلَا ھُبِّیْ بِصَحْنِکِ فَاصْبَحِیْنَا فَلَا تُبْقِیْ خُمُوْرَ الْاَنْدَرِ یْنَا (سبع معلّقۃ، معلقۃ عمرو بن کلثوم) یعنی اے میری محبوبہ! تو بیدار ہو۔اور اپنے بڑے پیالے میں ہم کو صبوحی پلا۔اور اس قدر پلا کہ علاقہ شام کے اندر شہر کے شراب فروشوں کی شراب میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے۔سب کی سب ہمیں پلادے۔اسی طرح جنگوں کے موقعہ پر وہ خصوصیت سے شراب کا زیادہ استعمال کیا کرتے تھے تاکہ وہ نتائج سے بے پرواہ ہو کر لڑیں اور عاقبت اندیشی کا خیال ان میں نہ رہے۔مگر ایسے ماحول میں رہنے کے باوجود انہوں نے خود پوچھا کہ یا رسول اللہ! شراب اور جُوئے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ابھی شراب اور جُوئے کی حرمت نازل نہیں ہو ئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کے بعد وہ محسوس کرتے تھے کہ یہ چیزیں قربِ الہٰی میں روک ہیں اور ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کوئی واضح حکم نازل ہونا چاہیے۔پس یہ سوال خود اپنی ذات میں صحابہ کرامؓ کی پاکیزگی ان کی بلندی اخلاق اور ان کے اعلیٰ کردار کا ایک زبردست ثبوت ہے۔شراب اور جُوا یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کے روکنے کے لئے دنیا میں بڑی بڑی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔مگر اسلام کے سوا اورکوئی مذہب ان کو روک نہیں سکا۔صرف اسلام ہی ہے جسے اس میدان میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔چنانچہ شراب