تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 304
صحابی ہیں وہ پیچھے ہٹ گئے اور صحابی قریب ہو کر حضرت عمرؓ سے باتیں کرنے لگ گئے۔اتنے میں ایک اور صحابی آگیا۔حضرت عمرؓ نے پھر ان نوجوانوں سے کہا۔ذرا پیچھے ہٹ جائو او ران کے لئے جگہ چھوڑ دو۔یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ جوتیوں تک جا پہنچے۔یہ دیکھ کر وہ مجلس سے اُٹھ کر باہر آگئے اور ایسی حالت میں آئے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا۔کیا کبھی یہ خیال بھی آسکتا تھا کہ ہم کسی زمانہ میں اس قدر ذلیل ہو جائیں گے کہ وہ لوگ جو ہماری جوتیاں اُٹھانا اپنے لئے فخر کا موجب سمجھا کرتے تھے مجلس میں ایک ایک کر کے ہم سے آگے بٹھائے جائیں گے اور ہمیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا جائےگا۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ہم جوتیوں تک جا پہنچیں گے۔گویا وہ جو ذلیل تھے معزز ہو گئے اور ہم جو معزز تھے ذلیل ہو گئے۔یہ تمام نوجوان اگرچہ ایماندار تھے مگر غصہ اور جوش میں ان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے لیکن ان میں سے ایک نوجوان جس کا ایمان زیادہ مضبوط تھا وہ کہنے لگا۔بھائی! تم نے بات تو ٹھیک کہی مگر اس کا ذمہ دار کون ہے اور کس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کردیں؟انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کی تھی اس لئے آج ہماری یہ حالت ہے کہ ہم مجلس میں پیچھے ہٹا دیئے گئے مگر وہ جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی تھی۔جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنے اموال آپ کی راہ میں قربان کر دیئے تھے ان میں سے گو بہت سے مارے گئے مگر اب بھی جو باقی ہیں ان کا حق ہے کہ ان کی عزت کی جائے۔اور ان کو ہم سے زیادہ ادب کے مقام پر بٹھایا جائے۔انہوں نے کہا یہ بات تو درست ہے مگر کیا اب اس ذلت کو مٹانے کا کوئی ذریعہ نہیں؟ یا کیا کوئی ایسی قربانی نہیں جو اس گناہ کا کفارہ ہو سکے؟ اس پر اسی نے کہا چلو !حضرت عمرؓ کے پاس ہی چلیں اور انہی سے اس کا علاج دریافت کریں۔چنانچہ وہ پھر آپ کے مکان پر گئے اور دستک دی مجلس اس وقت تک برخواست ہو چکی تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اندر بلا لیا اور کہا کس طرح آنا ہوا انہوں نے کہا آج جو سلوک ہمارے ساتھ ہوا ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں معذور تھا کیونکہ اس وقت جو لوگ میرے پاس آئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابی تھے اور میرے لئے ضروری تھا کہ میں ا ن کی عزت و تکریم کرتا۔انہوں نے کہا ہم اس بات کو خوب سمجھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر کے اپنے لئے بہت بڑی ذلّت مول لے لی۔مگر کیا کوئی ایسا طریق نہیں جس سے یہ ذلّت کا داغ ہماری پیشانیوں سے مٹ سکے؟ حضرت عمررضی اللہ عنہ چونکہ اس خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کا کام اہل عرب کے انساب کو یاد رکھنا تھااور وہ جانتے تھے کہ ان نوجوانوں کے باپ دادا کو کتنی بڑی عزت اور وجاہت حاصل تھی۔یہاں تک کہ اسلام کی دشمنی کے زمانہ میں بھی اگر وہ کسی مسلمان کو