تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 303

اعمال اس کے کسی کام نہیں آئیں گے کیونکہ اس کا خاتمہ اچھا نہ ہوا۔وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ اور یہی لوگ دوزخ کی آگ میں پڑنے والے ہوںگے۔کیونکہ دنیا میں بھی انہوں نے اپنے ارتداد سے فتنے اور فساد کی آگ کو بھڑکایا تھا۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے ہجرت کی ہے اور اللہ (تعالیٰ) کے راستہ میں جہاد کیاہے اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۲۱۹ ایسے لوگ یقیناً اللہ (تعالیٰ)کی رحمت کے امید وار ہیں۔اور اللہ (تعالیٰ) بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔تفسیر۔چونکہ گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا تھا جو ارتداد کی حالت میں ہی اس دنیا سے اُٹھ جائیں اور بتایا تھا کہ ایسے لوگوں کی اسلام کو مٹانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔اس لئے اب اللہ تعالیٰ ان کے مقابلہ میں ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے جن کو ارتداد کے بعد توبہ کی توفیق مل جائے اور وہ پھر اسلام میں داخل ہو جائیں چونکہ ارتداد کا داغ ایک نہایت ہی بدنما داغ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے توبہ کے لئے صرف ایمان لانا کافی قرارنہیں دیا بلکہ فرمایا کہ ایسے لوگوں کی توبہ اس وقت قبول ہو گی جب ایمان لانے کے بعدوہ ہجرت اختیار کریں یعنی بزدلی اور اخفائے ایمان جیسی گندی عادتوں کو کلّی طور پر ترک کردیں یا اس علاقہ سے نکل جائیں جہاں دینی معاملات میں جبر سے کام لیا جاتا ہو اور پھر دین کی راہ میں ایک ننگی تلوار بن کر کھڑے ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں مالی اور جانی جہاد کریں۔اگر وہ ایسا کریںگے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو غفور اور رحیم پائیں گے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ایک دفعہ حضرت عمرؓ حج کے لئے مکہ تشریف لے گئے۔تو حج کے بعد آپ کی ملاقات کے لئے لوگوں نے آنا شروع کر دیا۔انہی ملاقاتیوں میں مکہ کے روساء اور سردار انِ قریش کے بعض لڑکے بھی تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بڑی عزّت سے بٹھایا اور ان سے مختلف باتیں پوچھتے رہے اتنے میں ایک غلام صحابی آیا۔وہی غلام جو ابتدائے اسلام میں ان روساء عرب اور سرداران قریش کے باپ دادوں کی جوتیاں کھایا کرتے تھے جنہیں وہ گلیوں میں گھسیٹتے اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مار مار کر زخمی کر دیتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان نوجوانوں سے کہا۔ذرا پیچھے ہٹ جائو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے