تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 301

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپؐ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں لڑائی کی اجازت نہیں دی تھی اور مالِ غنیمت کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا(تاریخ الخمیس زیر عنوان بعث عبداللہ بن جحش الی بنی نخلہ)۔ابنِ جریرؓ نے حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جحشؓ اور ان کے ساتھیوں سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ابھی رجب شروع نہیں ہوا۔حالانکہ رجب کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔وہ خیال کرتے رہے کہ ابھی۳۰ جمادی الثانی ہے۔رجب کا آغاز نہیںہوا۔بہر حال عمروبن الحضرمی کا ایک مسلمان کے ہاتھوں مارا جانا تھا کہ مشرکین نے شور مچا نا شروع کر دیا کہ اب مسلمانوں کو ان مقدس مہینوں کی حرمت کا بھی پاس نہیںرہا جن میں ہر قسم کی جنگ بند رہتی تھی(تفسیر ابن جریر زیر آیت ھذا)۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بے شک ان مہینوں میں لڑائی کرنا سخت ناپسندیدہ امر ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ سے لوگوں کو روکا جائے۔اور خدا تعالیٰ کی توحید کا انکار کیا جائے اور مسجد حرام کی حرمت کو باطل کیا جائے اور اس کے باشندوں کو بغیر کسی جرم کے محض اس لئے کہ وہ خدا ئے واحد پر ایمان لائے تھے اپنے گھروں سے نکال دیا جائے۔تمہیں ایک بات کا تو خیال آگیا مگر تم نے یہ نہ سوچا کہ تم خود کتنے بڑے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہو اور خدااور اس کے رسول کا انکار کر کے اور مسجد حرام کی حرمت کو باطل کر کے اور اس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکال کر کتنے ناپسندیدہ افعال کے مرتکب ہوئے ہو جب تم خود ان قبیح حرکات کے مرتکب ہو چکے ہو تو تم مسلمانوں پر کس مونہہ سے اعتراض کرتے ہو۔ان سے تو صرف نادانستہ طور پر ایک غلطی ہوئی ہے مگر تم تو جانتے بوجھتے ہوئے یہ سب کچھ کر رہے ہو۔وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ علامہ ابو البقاء کے نزدیک بغیر اعادہ جار کے جر جائز نہیں اس لئے ان کا خیال ہے کہ یہ متعلق ہے فعل محذوف کا اور پورا جملہ یہ ہے وَصَدٌّعَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ(املاء ما مّن بہ الرحمٰن)۔کشاف نے بھی صَدٌّ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے ہی معنے کئے ہیں۔لیکن بعض کے نزدیک اَلْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کا عطف بِہٖ پر ہے اور ضمیر مجرور پر عطف بلا اعادہ جار کے برخلاف قول بصریوں کے جائز ہے۔(روح المعانی زیر آیت ھذا) اہل عرب میں اس کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔جیسے کہتے ہیں۔مَافِیْھَا غَیْرُہٗ وَفَرْسِہٖ۔یعنی اس گھر میں اس کے اور اسکے گھوڑے کے سوا اور کوئی نہیں۔اس مثال میں فَرْسِہٖ کا عطف ضمیر مجرور پر کیا گیا ہے۔پھر فرمایا وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ۔فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔اس جگہ فتنہ سے وہی فتنہ مراد ہے جس کا لَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ میں ذکر آتا ہے۔یعنی مسلمانوں کو مرتد کرنے اور انہیں