تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 296
آگیا۔ہاں اس سے زائد مضمون بھی بتا دیاگیاکہ اگر خرچ کرو تو کہاں کہاں خرچ کرو۔گویا اس طرف اشارہ کیا کہ خرچ کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا کہ صحیح جگہ خرچ کرنا مشکل ہے۔پس جو خرچ کرو احتیاط سے کرو اور مستحقین کو دو۔یہ قرآنی کمال ہے کہ وہ مختصر الفاظ میں وسیع مضمون بیان کردیتا ہے۔دیکھو یہاں کتنے مختصر لفظوں میں سوال کا جواب بھی دے دیا۔یہ بھی بتا دیا کہ مال حلال دو(طیّب میں حلال کا مفہوم بھی شامل ہے) اور یہ بھی کہ حلال مال طیب بھی ہو۔یہ نہیں کہ ٹوٹی ہوئی جوتی جو کسی کام کی نہیں دےدی بیشک وہ اس کا مال ہے۔بے شک اس کا دینا اسے حلال ہے مگر وہ طیّب نہیں۔کیونکہ جسے دی گئی ہے اس کے کام کی نہیں۔یا مثلاً ایک بھوکا کھانا مانگنے آیا ہے گھر میں کھانا تیار ہے مگر اُسے آٹا دے دیا۔یہ مال بھی ہے حلا ل بھی ہے۔مگر بھوکے کی ضرورت کو پورا نہیں کرتا۔طیب یہ ہے کہ خود کم کھائے اسے پکا ہوا کھانا دے جسے وہ فوراً کھا سکے۔یہ سب کچھ بتا کریہ بھی بتا دیا کہ فلاں فلاں جگہ مال خرچ کرنا زیادہ مناسب ہے۔سبحان اللہ کیا معجزانہ اعجاز ہے!! قرآن مجید میں ایسی مثالیں اور بھی ہیں کہ سوال کا جواب دے کر زائد مضمون بتا دیا ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس قسم کا کلام فرماتے تھے۔آپؐ سے کسی نے پوچھا کہ سمندر کے پانی کے بارہ میں کیا حکم ہے۔آپ ؐ نے فرمایا ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاءُ ہٗ وَ الْحِلُّ مَیْتَتُہٗ۔(ترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی ماء البحر انہ طھور)اس کاپانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے یعنی سمندری جانور کے لئے ذبح کرنے کی شرط نہیں۔جیسے مچھلی، اب دیکھو! یہاں سوال کا جواب بھی دیا ہے اور زائد مضمون بھی بتا دیا ہے۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کیا خرچ کرنے کے الفاظ سے صدقہ کے اقسام کا دریافت کرنا بھی مراد ہو سکتا ہے؟ یعنی ہمارا خرچ کرنا کس کس موقعہ اور کن کن لوگوں کے لئے ہو۔اور اس جگہ غالباً یہی مراد ہے۔کیونکہ کمیت کے متعلق سوال آگے آتا ہے۔مَاذَا سے سوال کبھی اُس چیز کے متعلق کیا جاتا ہے اور کبھی اس کی صفات کے متعلق۔نحوی لکھتے ہیں کہ صفات کے متعلق صرف ذوی العقول کے بارہ میں سوال کیا جاتا ہے۔لیکن یہ حد بندی بلاوجہ معلوم ہوتی ہے میرے نزدیک اس جگہ پوچھنے والا یہ نہیں پوچھتا کہ صدقہ کس چیز کا ہو۔بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ صدقہ کی صفات کیا ہوں؟ سوا للہ تعالیٰ نے جواب دے دیا کہ معین نہیں ہر اچھی چیز خرچ کرو۔یعنی طیّب مال سے ہو اور جتنی توفیق ہو اس قدر دیا جائے اور ساتھ ایک بات زائد بتا دی کہ تم اپنے ایمان یا اپنی حالت کے ماتحت جو کچھ خرچ کرو۔یہاں یہاں خرچ کرو۔پھر فرمایا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔اللہ تعالیٰ کے قرب کے لئے تم کسی ایک نیکی پر حصر نہ کرو۔بلکہ ہر قسم کی نیکیاں بجا لائو۔اور ہر خیر اور برکت کا دروازہ اپنے اوپر کھولنے کی کوشش کرو۔کیونکہ تمہارے سامنے ایک