تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 295

تھیں اور وہی ان کی قومی ترقی کا باعث ہوئیں جیسا کہ مَسَّتْـھُمُ الْبَاْسَآئُ وَالضَّرَّآئُ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔اس لئے جب صحابہؓ نے یہ بات سنی تو ان کے دل بھی ان قربانیوں کے لئے بے تاب ہو گئے اور انہوں نے بے اختیار ہو کر روحانی ترقیات کے حصول کےلئے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! اگر قومی ترقی کے لئے مالی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمیں بھی بتایا جائے کہ ہم کیا خرچ کریں تاکہ ہمارا قدم بھی عشق کے میدان میں کسی دوسرے سے پیچھے نہ رہے۔دوسراسوال جانی قربانیوں کے متعلق ہو سکتا تھا۔سو اس کا جواب کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ میں دیا گیا ہے جس سے قرآن کریم کی نہایت اعلیٰ درجہ کی ترتیب پر روشنی پڑتی ہے۔اس آیت کے متعلق لوگ عام طور پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ سوال کچھ ہے اور جواب کچھ ہے۔پوچھا تو یہ گیا ہے کہ کیا خرچ کریں؟ اور جواب یہ دیا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی اپنے اموال میںسے خرچ کرو۔وہ فلاںفلاں کو دو۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض قلّتِ تدبر کی وجہ سے ہے سوال کا جواب آیت میں موجود ہے جب اس نے فرما دیا کہ جو کچھ بھی تم اچھے مال سے خرچ کرو تو اس میں سائل کا جواب مکمل آگیا۔اوّل یہ کہ کوئی حد بندی نہیں۔جتنے کی توفیق ہوا تنا خرچ کرو۔دوم یہ ہے کہ اس امر کا لحاظ رکھو کہ جو خرچ کرو وہ طیب مال ہو۔جو لوگ حرام کماتے ہیں اور اس میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے گناہ کا کفارہ کردیا وہ غلطی پر ہیں۔خدا تعالیٰ ایسے ہی مال کو قبول کرتا ہے جو اچھا ہو۔سوم یہ کہ صرف حلال نہیں دینا بلکہ طیّب دینا ہے یعنی جس مال کو قبول کرنا اس شخص پر گراں نہ گذرے جس کو مال دیا جائے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ خیر کے معنے مال کے ہیں۔اچھے مال کے معنے کہاں سے نکالے گئے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ خیر کے اصل معنے بہترین شے کے ہیں۔اور مال کو اسی صورت میں خیر کہتے ہیں جب کہ وہ طیّب ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو۔مفرادتِ راغب میں ہے وَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ لَا یُقَالُ لِلْمَالِ خَیْرٌ حَتّٰی یَکُوْنَ کَثِیْرًا وَمِنْ مَکَانٍ طَیِّبٍ۔یعنی مال کو خَیْر اسی صورت میں کہیں گے جبکہ وہ زیادہ ہو اور پاک ذرائع سے حاصل کیاگیا ہو۔اور خود طیّب ہو پس خیر کہنے سے یقیناً قرآن کریم نے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ طیب اموال میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔اگر کہا جائے کہ اگر کوئی شخص حرام کماتا ہو لیکن صدقہ طیب مال سے دے تو کیا یہ اس حکم کے مطابق ہو گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تھوڑی سی گندگی بھی بہت سی پاکیزہ شے کو گندہ کر دیتی ہے۔پس اگر کوئی شخص رشوت لیتا یاچوری کرتا یا ظلم سے دوسرے کا مال لیتا ہے تو خواہ اس قسم کا مال تھوڑا ہو اس کا سب مال گندہ ہو جائےگا اور وہ اس حکم کو پورا کرنے والا نہ ہوگا۔غرض سوال کا مکمل جواب اسی آیت میں