تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 294

ہر بلا کیں قوم را حق دادہ است زیر آں گنجِ کرم بنہادہ است (مثنوی معنوی للرومی ذکر کرامات شیبان الراعی صفحہ ۱۱۳) یعنی جب کسی قوم پر کوئی آزمائش کا وقت آتا ہےتو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نیچے انعامات کا ایک بہت بڑا خزانہ مخفی ہوتا ہے۔پس ابتلاء کسی خطرہ کا موجب نہیں ہوتے بلکہ ابتلاء کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اور ترقی عطا کرے گا۔ڈر اور خوف صرف اپنے نفس کی وجہ سے ہوتا ہے۔پس ہمیشہ اپنے نفس پر غور کرتے رہنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ آیا اس میں کوئی ایسی بات تو پیدا نہیں ہو گئی جو تباہی کا باعث بن جائے۔اگر اس میں وساوس پیدا نہیں ہوتے اگر ایمان مضبوط ہے اور دل شکر اور امتنان کے جذبات سے پُر ہے تو انسان کو خوش ہونا چاہیے کیونکہ ایسی حالت میں ابتلاء بہت بڑے انعامات کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔لیکن اگر ابتلاء آنے پر دل میں وساوس پیدا ہوں اور ایمان میں کمزوری محسوس ہو تو سمجھ لو کہ یہ ابتلاء ترقی کا باعث نہیں بلکہ ہلاکت کا باعث ہیں۔غرض اصل اور حقیقی ایمان وہی ہوتا ہے جو ابتلائوں میں سے گذرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ اسی کے نتیجہ میں ابدی زندگی حاصل ہوتی ہے۔يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا يُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ تو کہہ دے (کہ )جو اچھا مال بھی تم دو فَلِلْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ ابْنِ وہ (تمہارے )ماں باپ قریبی رشتہ داروں یتیموں مسکینوں اور مسافر کا السَّبِيْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ۰۰۲۱۶ (پہلا) حق ہے۔اور جو نیک کام بھی تم کرو اللہ اسے یقیناً اچھی طرح جانتا ہے۔تفسیر۔چونکہ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ پہلے لوگوں پر بھی مالی اور جانی مشکلات آئی