تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 290

ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہمَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ۔انہیں مالی مشکلات بھی پیش آئیں اور جانی بھی اور وہ سرسے پائوں تک ہلادیئے گئے اور ان پر اس قدر ابتلاء آئے کہ آخر اس وقت کے رسول اور مومنوں کو دُعا کی تحریک پیدا ہو گئی اور وہ پکار اُٹھے کہ اے خدا! تیری مدد کہاں ہے؟ اس آیت کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے پاک بندے بھی کسی وقت اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایسے مایوس ہو جاتے ہیں کہ انہیں مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ کہناپڑتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جس مایوسی کا تصور بادی النظر میں پیدا ہوتا ہے اس سے انبیاء اور ان پر ایمان لانے والے کلیۃً پاک ہوتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ (یوسف: ۸۸) کہ صرف کافر ہی خدا تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں۔بات یہ ہے کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب مَتٰی کا لفظ بولیں تو اس سے مراد مایوسی نہیں ہوتی بلکہ تعیین کے لئے ایک درخواست ہوتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ فلاں بات کے لئے ایک وقت مقرر فرماد یا جائے۔ایسا ہی اس جگہ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ کے یہ معنے نہیں کہ وہ مایوسی کا شکار ہو کر ایسا کہتے ہیں بلکہ درحقیقت ان الفاظ میں وہ یہ درخواست کرتے ہیں کہ الہٰی اس بات کی تعیین فرما دی جائے کہ وہ مدد کب آئےگی؟ گویا مزید اطمینان کے لئے وہ آنے والی نصرت کے وقت کی تعیین کروانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد جلد نازل ہو۔یہ دُعا کا ایک موثر طریق ہے اور اس میں یہ اشارہ مخفی ہے کہ ان پر اس قدر ابتلاء آئے کہ وہ ہلادیئے گئے اور ان میں دُعا کی تحریک پیدا ہو گئی۔اور ابتلائوں کی بڑی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو جب مومنوں کو دعا کی تحریک ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ آسمان سے اپنی نصرتِ نازل فرما دیتا ہے۔اور ان کے مصائب کا خاتمہ کر دیتا ہے۔مگر اس کے علاوہ حتّٰی کے معنے ’’کَی‘‘ کے بھی ہوتے ہیں اور یہ معنے کُتب نحو اور قرآن کریم سے ثابت ہیں۔مغنی اللبیب میںلکھا ہے۔وَمُرَادِفَۃُ کَیِ التَّعْلِیْلِیَّۃِ حَتّٰی یعنی حَتّٰی کے معنے اس ’’کَی‘‘ کے مترادف بھی ہوتے ہیں جو کسی بات کی وجہ بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے یعنی اس حتّٰی سے پہلے جو بات ہوتی ہے وہ بعد میں آنے والی بات کے لئے بطور سبب کے ہوتی ہے۔قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی حتّٰی ان معنوں میں آیا ہے۔چنانچہ سورۃ منافقون میں آتا ہے هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا (المنافقون : ۸)یعنی جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاس جمع ہیں ان پر خرچ نہ کرو۔تاکہ وہ بھاگ جائیں۔نحوی اس کی یہ مثال بھی دیتے ہیں کہ اَ سْلِمْ حَتّٰی تَدْ خُلَ الْجَنَّۃَ یعنی فرمانبرداری کرتا کہ تو جنت میں داخل ہو جائے۔ان معنوں کے لحاظ سے