تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 286
نبی ضرور کوئی نئی کتاب لاتا ہے نہ صرف قرآن کریم کے خلاف ہے بلکہ انبیاء کی ایک لمبی تاریخ بھی اس عقیدہ کو واضح طور پر رد کرتی ہے۔لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ میں یَحْکُمَ کی ضمیر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ بھی ہو سکتا ہے۔اور رسول اور کتاب بھی۔یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے یا رسول فیصلہ کرے یا کتاب فیصلہ کرے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے آنے سے پہلے بھی لوگوں میں اختلاف موجود ہوتا ہے جسے خدایا اس کا رسول یا اس کی کتاب آکر دُور کرتے ہیں۔یہ ایک غلط خیال ہے جو لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے کہ انبیاء کے آنے کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوتا ہے وہ اختلاف پیدا نہیں کرتے بلکہ اختلاف جو واقعہ ہو چکا ہوتا ہے اسے مٹا کر وحدت پیدا کرتے ہیں۔وَ مَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُسے پھر شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اختلاف در حقیقت بعد میں ہی ہوا۔پہلے اُن میں کوئی اختلاف نہ تھا مگر یہ درست نہیں۔کیونکہ مَا اخْتَلَفَ فِيْهِ کے بعد اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ رکھ کر بتادیا ہے کہ یہ اختلاف وہ ہے جو کتاب کے بارہ میں ہے کیونکہ اُوْتُوْهُ نے بتا دیا ہے کہ یہ کتاب کا ذکر ہے۔پس اس آیت میں پہلے اختلاف کا ذکر نہیں بلکہ ایک اور اختلاف کا ذکر ہے۔جو نبیوں کی آمد سے پیدا ہوتا ہے۔پہلا اختلاف تو وہ تھا کہ جس کے باوجود اُن کو اُمَۃً وَّاحِدَۃً کہا تھا لیکن اب صداقت کے متعلق اختلاف پیدا ہوا اور دلائل کے آنے کے بعد پیدا ہوا۔اگر یہ کہا جائے کہ اس اختلاف کا تو پہلے ذکر ہی نہیں۔پھر اس آیت کا یہاں کیا جوڑ ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔جو پہلی آیت لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ سے پیدا ہوتاہے۔اور وہ یہ تھا کہ اگر نبیوں کے بعثت کی غرض اختلاف کو مٹانا تھا تو پھر اُن کی بعثت کا کیا فائدہ ہوا انہوں نے تو آکر اور اختلاف پیدا کر دیا ؟اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ یہ اختلاف اور پہلا اختلاف مختلف ہیں۔پہلا اختلاف ایسا تھا کہ جیسے مختلف بیمار ہو ںاور دوا نہ ہو۔اور دوسرا ایسا ہے کہ بیمار کو دوا دی جائے اور وہ نہ پیئے۔پس پہلا اختلاف مجبوری کا تھا اور اس کی تلافی ضروری تھی اور یہ اختلاف حق کے مقابلہ میں پیدا ہوا ہے۔بہر حال اب حق توآگیا ہے جس کو اگر لوگ چاہیں تو مان لیں پس پہلا اختلاف خرابی ہی خرابی پیدا کرتا تھا اور یہ اختلاف ایسا ہے کہ اس میں ہدایت کی اُمید ہے کیونکہ حق موجود ہے۔اب اگر اختلاف ہے تو صرف ضد کی وجہ سے ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ اختلاف صرف اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ کو ہے۔یعنی اس تعلیم سے جو ہم نے بھیجی ہے صرف اُن لوگوں کو اختلاف ہے جن کی طرف وہ کتاب آئی ہے یا تعلیم یا نبی آیا ہے۔جو دوسرے لوگ ہیں اُن کو اِس سے