تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 25

پڑے گا۔کیونکہ لوگوں نے وہاں بار بار حج اور عمرہ کے لئے جانا ہے اور دنیا کے کناروں سے وہاں اکٹھا ہونا ہے۔پس تمہیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہاں کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔اگر وہاں خرابی پیدا ہوئی تو لازماً ساری دنیا پر اس کا اثر پڑے گا۔چنانچہ دیکھ لو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اب تک بعض مخالف یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کو اپنے دعوے میں کس طرح سچا سمجھ لیں جبکہ مکہ کے علماء نے بھی آپؑ پر کفر کے فتوے لگائے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مکہ والوں کی اصلاح کی طرف توجہ رکھنا کس قدر ضروری ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیت اللہ کبھی غیر مسلموں کے ہاتھ میں نہیں جا سکتا۔مگر اس پر شیطانی حملے تو ہر وقت ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں اسی طرح وہاں کے رہنے والوں میں بھی کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔پس اس آیت میں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اے مسلمانو! تم خواہ دنیا کے کسی گوشہ میں رہتے ہو تمہیں ہمیشہ مکہ کی طرف اپنی توجہ رکھنی چاہیے اور اس کی اصلاح اور ترقی کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔افسوس ہے کہ گذشتہ دور میں مسلمانوں نے اس اہم فرض کو نظر انداز کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود ان میں بھی کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔میں جب اسلامی تاریخ کو پڑھتا ہوں تو مجھے یہ دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ مکہ اور مدینہ کی آبادی تو چند ہزار یا ایک لاکھ کے ارد گرد گھومتی رہی۔مگر بغداد، دمشق اور قاہرہ کی آبادی اور ایران اور ہندوستان کے اسلامی شہروں کی آبادیاں بیس بیس لاکھ تک پہنچ گئیں۔میں سمجھتا ہوںاسلام کے تنزل میں اس بات کا بھی بڑا دخل تھا کہ مسلمانوں میں اپنے مذہبی مرکز میں بسنے کی خواہش اتنی نہ رہی جتنی خواہش انہیں دارالحکومت میں بسنے کی تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنیاد چھوٹی رہی اور عمارت بڑی ہو گئی اور چھوٹی بنیاد پر بڑی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ہر انسان کے اندر بعض خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور بعض برائیاں بھی۔اگر وہ بعض غلطیاں کر جاتا ہے تو وہ بعض اچھی باتیں بھی کرتا ہے۔ہٹلر جو جرمنی کا سابق لیڈر تھا اور جس نے اپنی قوم کی ترقی کے لئے بڑی جدوجہد کی۔اگر اس کے اندر اسلام ہوتا تو وہ یقیناً بہت بڑا آدمی ہوتا مگر بوجہ اس کے کہ اس کی تربیت کرنےوالا مذہب نہیں تھا وہ بہت سے غلطیوں کا شکار ہوا اور وہ قوم کو ترقی کی طرف لے جانے کی بجائے اُسے تنزل میں دھکیلنے کا موجب ہو گیا۔وہ چونکہ انجینیئرتھا اس لئے تعمیر سے تعلق رکھنے والی باتیں اس کے لئے زیادہ نصیحت کا موجب ہوا کرتی تھیں اس نے اپنی کتاب ’’مائنے کامف‘‘ (MEIN KAMPH صفحہ ۸۰ تا ۹۶) میں جس میں وہ اپنا پروگرام پیش کرتا ہے لکھا ہے اور اس بات پر لمبی بحث کی ہے کہ یورپ میں اگر کوئی قوم بڑھنے کا حق رکھتی ہے تو وہ صرف جرمن قوم ہے اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتا ہے کہ جو بڑی عمارت ہو وہ بڑی بنیاد پرہی قائم ہو سکتی ہے۔تم اگر چارفٹ چوڑی بنیاد رکھو اور اُس پر چھ فٹ چوڑی دیوار بنا دو تو دیوار گر جائے گی لیکن اگر چار فٹ بنیاد رکھو اور تین فٹ چوڑی دیوار