تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 280
اسی طرح مَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ میں یہ اشارہ مخفی تھا کہ مکہ ایک دن تمہارے لئے گھر کے طور پر بننے والا ہے۔غرض ان آیات میں یہ بتایا گیا تھا کہ مکہ کے دروازے تمہارے لئے کھلنے والے ہیں۔اور تم اس میں امن سے داخل ہو گے۔چنانچہ فتح مکہ سے پہلے ہی فرما دیا کہفَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ جب تم امن میں آجائو تو ایسا کرو۔اب ان پیشگوئیوں کے ساتھ ہی بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم ان سے پوچھو کہ ہم نے انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت کے کس قدر کھلے نشانات دکھائے ہیں اور یہ جو ہم نے فتح مکہ کی پیشگوئی کی ہے یہ بھی ایک زبردست نشان ہے جس سے ثابت ہو جائےگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی عظیم الشان نعمت یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی ناقدری کرتے ہوئے اسے مٹانے کے درپے ہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں سخت سزا دےگا۔چنانچہ فتح مکہ کے ساتھ ہی یہود کی بھی انتہائی ذلت ہوئی اور وہ بھی تباہ ہوتے چلے گئے۔اس آیت کا ایک یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے یہود کو پہلے بھی بہت سی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن کی انہوں نے ناشکری کی مثلاً سب سے بڑی نعمت تو ان پر یہی نازل ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے متواتر انبیاء ان میں مبعوث فرمائے لیکن یہود نے ہمیشہ ان کی تکذیب کی اور ان کی مخالفت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔یہاں تک کہ بعض انبیاء کو انہوں نے جان سے بھی مارڈالا۔یہ خدا تعالیٰ کی نعمت کی ایک عظیم الشان ناشکری تھی جو ان سے ظاہر ہوئی۔اسی طرح عیسائیوں نے جو یہود کی ایک شاخ ہیں اس قدر ناشکری کی کہ شریعت کو لعنت قرار دے دیا۔غرض یہود کی ان متواتر سرکشیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتِ نبوت ان سے واپس لے لی کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا الٰہی سنّت کے مطابق وہ نعمتیں اس سے چھین لی جاتی ہیں اور اسے رنج و غم اور حسرت ویاس کے لمبے عذاب میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَ يَسْخَرُوْنَ مِنَ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے انہیں دنیوی زندگی خوبصورت کر کے دکھائی گئی ہے۔اور وہ ان لوگوں سے جو ایمان الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ لائے ہیں ٹھٹھا کرتے ہیں۔اور (اس کے بالمقابل) جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ (ان) کفار پر قیامت