تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 279
عرب کے سردار چُن چُن کر مارے گئے۔یہاں تک کہ وہ بھی جسے وہ سیدالوادی کہتے تھے دو انصاری لڑکوں کے ہاتھ سے مارا گیا (بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جھل)۔اور مکہ میں ایسا کہرام مچا کہ کوئی گھر نہ تھا جس میں ماتم نہ پڑاہو۔اور گو یہود پراس کا براہ راست کوئی اثر نہیں پڑا مگر اس جنگ کے نتیجہ میں ہی ان کی شرارتیں ظاہر ہوئیں۔اور آخر وہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔غرض ان کا منہ مانگا نشان انہیں مل گیا اور ان کی شوکت کی جڑھ کاٹ کر رکھ دی گئی اور پھر یہی سلوک بعد میں پیدا ہونے والے دشمنوں سے بھی ہوتا رہا اور خدا تعالیٰ انہیں اپنی قہری تجلی کے جلوے بار بار دکھاتا رہا یہاں تک کہ اسلام دنیا پر غالب آگیا۔سَلْ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ كَمْ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ اٰيَةٍۭ بَيِّنَةٍ١ؕ وَ (ذرا) بنی اسرائیل سے پوچھو (تو) کہ ہم نے انہیں کتنے کھلے کھلے نشان دئیے تھے اور جو شخص اللہ کی (کسی) مَنْ يُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ نعمت کو بعد اس کے کہ وہ اسے حاصل ہو جائے (اور وہ اس حقیقت کو سمجھ چکا ہو ) بدل ڈالے تو (وہ یاد رکھےکہ ) اللہ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۰۰۲۱۲ (بھی )سخت سزا دینے والا ہے۔تفسیر۔میں ترتیب مضمون کو بیان کرتے ہوئے اوپر بتا چکا ہوں کہ اس جگہ یہود مخاطب ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس پیشگوئی پر بحث ہو رہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے متعلق تھی۔اور آپ کو اس پیشگوئی کا مصداق ثابت کیا جارہا ہے۔چنانچہ اسی تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ میں فتح مکہ کی پیشگوئی کی۔یہ پیشگوئی اس وقت کی گئی تھی جبکہ مکہ پر کفار کاغلبہ اور حکومت تھی اور مسلمان مدینہ میں پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعے بتایا کہ ایک وقت آئے گا جب تم مکہ فتح کر لو گے اور تمہارے لئے حج بیت اللہ کے راستے بالکل کھل جائیں گے۔پھر اسی ضمن میں صلح حدیبیہ کی بھی پیشگوئی کی کیونکہ بتایا کہ اگر تمہیں عمرہ سے روکا جائے تو تمہیں کیا کرنا چاہیے۔گویا پہلے سے پیشگوئی کر دی کہ تمہیں ایک زمانہ میں عمرہ کرنے سے بھی روکا جائےگا۔